جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سندھ کو واجب الادا 87 بلین نہیں دیئے گئے، سندھ میں زیادتی نہیں ہونے دیں گے : ناصر شاہ

ناصر شاہ

ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ انفراسٹرکچر کے نام سے کمپنی بناکر ان کو فنڈز دینے کی بات کی جارہی ہے، سندھ کے ساتھ ایسا کیوں؟ فنڈز کی مد میں سندھ کو واجب الادا 87 بلین نہیں دیئے گئے۔

وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سندھ حکومت کو پی ایس ڈی پی میں حصہ نہیں دیا جارہا اور پھر کہا جاتا ہے کہ آپ این ایف سی سے ترقیاتی کام کروائیں۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ سندھ 70 فیصد حصہ ڈالتا ہے، مگر پی ایس ڈی پی میں حصہ کاٹ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہیں کہتے کہ آپ دیگر صوبوں کو فنڈز نہ دیں، پورا پاکستان ہمارا ہے، سب کو حق ملنا چاہیے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم سندھ کارڈ کھیلتے ہیں، ایسا نہیں ہے، ہم کہتے ہیں سندھ کاٹ نہ کیا جائے۔ سندھ کے کچھ اضلاع میں پینے کا پانی تک نہیں ملتا۔

ان کا کہنا تھا کہ 1991ء کے پانی معاہدے کا تذکرہ بہت ہوتا ہے مگر افسوس اس پر بھی عمل نہیں ہوتا۔ ارسا سمیت دیگر جگہوں پر شارٹیج ہوئیں تو ہمیں 50 فیصد جبکہ دیگر جگہوں پر صرف 15 فیصد اور 10 فیصد ہوئی۔

سندھ کے وفاقی وزراء صرف پانی کے معاملے پر پوائنٹ اسکورننگ کررہے ہیں۔ اس بات کا تذکرہ تک نہیں کرتے کہ سندھ کو پانی میں اس کا حصہ نہیں مل رہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق اسپیکر خود 18 ویں ترمیم کا کریڈٹ لیتی رہی ہیں اور آج اس ترمیم کو ریاست کے اندر ریاست کا واویلا کررہی ہیں۔  وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث بدین سمیت پورے ملک سے اپوزیشن اور پی ڈی ایم رہنماء جیت گئے۔ حکومتی پالیسیوں کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ وفاق ریکوریز کا دعویٰ کرتی ہے مگر پھر فنڈز کی مد میں سندھ کو واجب الادا 87 بلین نہیں دیئے گئے۔ بتائیں پھر یہ دعویٰ کیوں؟ لوڈ شیڈنگ کا برا حال ہے، حسیکو، سیپکو اور کے الیکٹرک سے بجل فراہم ہی نہیں کی جاتی۔ عام آدمی نہ دو وقت کی روٹی کھا سکتا ہے، نہ گھر کا کرایہ دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ حکومت کا کراچی کیلئے 10 نئے میگا منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاق کی طرف سے غیر منصفانہ سلوک کے باوجود علاج کی سہولیات فراہم کیں۔ ترقیاتی کام ہر ممکن طور پر کروائے۔ سندھ انفراسٹرکچر کے نام سے کمپنی بناکر ان کو فنڈز دینے کی بات کی جارہی ہے۔ کیا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ایسی کسی کمپنی کو فنڈز دیئے گئے؟ یا کوئی کمپنی بنائی گئی؟ اس حوالے سے سندھ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ اسد عمر جیسے سنجیدہ وزیر بھی نالوں کے نام پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ یہ حقائق کے برعکس ہیں۔ علی زیدی نے کچرا اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ ایک لاکھ تیس ہزار ٹن کچرا نالوں سے نکالا۔ مگر جب یہ کچرا باہر پھینکا گیا تو صرف 18 ہزار ٹن کچرا تھا باقی کچرا کدھر گیا؟

ہمیں وہ لوگ شہری مسائل پر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جنہوں نے 12 مئی اور بلدیہ فیکٹری میں لوگوں کو زندہ جلا دیا۔ ان عزائم کے بعد پھر الگ صوبے کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کل ایک پی ٹی آئی خاتون نے جو رویہ پیپلز پارٹی کے ایک رکن اسمبلی کے ساتھ کیا کیا اس کا کوئی جواز ہے؟ کووڈ کے باعث اگر کہیں لاک ڈاؤن وفاق کرے تو ہم اس کی مخالفت نہیں کرتے، مگر جب ہم کووڈ سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدام اٹھاتے ہیں تو تنقید کا نشانہ یہی سیاسی جماعت بنانا شروع کر دیتی ہے۔

ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ ہم واحد صوبائی حکومت ہے جس نے بلدیاتی نظام کو اپنی مدت پوری کرنے دی بلکہ ان کی معاونت بھی کی۔ اس کے برعکس پنجاب اور وفاق میں جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقے میں آپریشن ہورہا ہے اور پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کیا جارہا ہے۔ مغویوں کو بازیاب بھی کرایا گیا، کئی ڈاکو ہلاک ہوچکے کئی کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کے دوران بحریہ ٹاؤن واقعے پر تسلسل کے ساتھ صحافیوں نے سوالات کیئے۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ بحریہ ٹاؤن کی ہمیشہ پشت پناہی کا الزام پیپلز پارٹی پر لگایا گیا، دوسری طرف اب بحریہ ٹاؤن پر حملے کا الزام بھی پی پی پر لگایا جارہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے، مگر کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کسی کے ساتھ سندھ میں ہم زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ انتظامیہ کو احتجاجی منتظمین نے کہا تھا کہ وہ پرامن احتجاج کرکے منتشر ہو جائیں گے۔ پھر سب نے دیکھا کہ سڑک کو بلاک کیا گیا، ریاست مخالف نعرے لگائے اور املاک کا نقصان پہنچایا گیا۔

ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والوں نے الطاف حسین کی تصویریں اٹھاکر شامل تھے یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے۔ آپ نے قائد چھوڑا ہے، اب کو اس کی سوچ کو بھی چھوڑنا ہوگا۔ ایم کیو ایم کو خود کراچی کی عوام نے مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی اور کسی کی حق تلفی بھی نہیں ہوئی۔ روٹی، کپڑا اور مکان پر عملدرآمد صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی کرتی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر ہم نے غریبوں کو مفت گھر بناکر دیئے ہیں کیا کسی صوبے میں ایسی مثال ہے؟

متعلقہ خبریں