جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پشاور بم دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 8 ہوگئی، 100 سے زائد زخمی

100 سے زائد

پشاور : کوہاٹ روڈ پر دینی مدرسے میں بم دھماکے سے 8 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

پشاور کی دیر کالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مدرسے میں اس وقت زوردار دھماکہ ہوا، جب معلم کی جانب سے طلباء کو دینی درس دیا جارہا تھا۔ دھماکے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔

دھماکہ ہوتے ہی ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی، 100 سے زائد طلباء زخمی ہوگئے، مسجد کے ایک طرف کی دیوار گرگئی، مدرسے میں چاروں جانب کھڑکیوں کے شیشے اور خون پھیل گیا۔ طلباء کے بستے اور پنسلیں فرش پر بکھر گئیں، منبر کے قریب گڑھا پڑ گیا۔ مدرسے میں زیر تعلیم طالب علم کے مطابق دھماکے کے وقت درس میں تقریباً 1200 طلباء موجود تھے۔

دھماکے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار مدرسے پہنچ گئے اور زخمی ہونے والے طلباء کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور بم دھماکہ : آئی جی سندھ کے پولیس کو الرٹ رہنے کے احکامات

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے مدرسے میں بارودی مواد سے بھرا بیگ رکھا، جس میں پانچ کلو گرام سے زائد دھماکہ خیز مواد موجود تھا، دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔ ایس پی سٹی وقار کھرل کے مطابق مسجد انتظامیہ کو پہلے بھی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

آئی جی خیبر پختونخوا ثناء اللہ عباسی کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے، شیئر نہیں کرسکتا۔ دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ دیر باجوڑ میں بھی کچھ لوگ پکڑے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کل بھی تھریٹ الرٹ سے متعلق اجلاس کیا۔ صوبے کی سیکیورٹی یقینی بنائیں گے۔ مدرسے میں حملے سے متعلق مخصوص تھریٹ نہیں تھا۔ صوبے میں 30 ہزار مساجد اور 4 ہزار مدارس ہیں۔ مدرسے میں دھماکے کا دکھ ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت اور ظالمانہ قدم ہے، پولیس کو واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے دھماکے کی تحقیقات کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں