زلزلے میں بننے والا ایک جزیرہ مکمل طور پر غائب

لندن: بلوچستان میں آنے والے جان لیوا زلزلے کے بعد بحیرہ عرب میں بننے والا ایک جزیرہ اب دھیرے دھیرے تقریباً مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے۔

24 ستمبر 2013 کو بلوچستان کے ضلع آواراں میں اس زلزلے نے شدید تباہی مچائی تھی اور مرنے والوں کی تعداد 400 سے 600 بتائی گئی تھی۔ آواراں کے علاوہ بلوچستان کے دیگر چھ علاقے بھی زلزلے سے متاثر ہوئے تھے جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.7 تھی ۔

اس سانحے کے بعد گوادر کے پاس ایک جزیرہ نمودار ہوگیا تھا جسے ’کوہِ زلزلہ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ زلزلے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اسے دیکھا تھا ۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اس جزیرے پر ہائیڈروکاربنز موجود ہوسکتے ہیں کیونکہ 2010 میں ہنگول کے قریب پانیوں میں بھی ایسا ہی ایک زلزلہ پھوٹ پڑا تھا جس سے میتھین گیس خارج ہورہی تھی۔

اب ناسا کی خلائی تصاویر سے عیاں کہ ہے دھیرے دھیرے سمندر میں جاتا ہوا جزیرہ اب مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے اور ثبوت کے طور پر اس کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ ناسا کے مطابق اس مقام پر نرم گاڑھے کا ایک آتش فشاں پہاڑ ہے جس کی وجہ جزیرہ نمودار ہوا تھا۔ سطح آب پر ظاہر ہونے کے بعد کوہِ زلزلہ کی کل لمبائی 20 میٹر اور اونچائی 135 فٹ تک نوٹ کی گئی تھی۔

یوایس جیالوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے پروفیسر بِل برنارٹ ایران اور پاکستان کے زلزلے کے ماہر ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کا سمندر ایسے جزائر کی تشکیل کے لیے نہایت موزوں جگہ ہے۔ ارضیاتی طور پر کم گہرے پانی میں میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مائعات موجود ہیں۔ زلزلے سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے اور اوپر کی جانب ابل پڑتا ہے۔