جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی، ملزمان اب تک آزاد، پولیس کو گھڑی اور انگھوٹی مل گئی

موٹر وے پر

لاہور : موٹر وے پر انسانیت سوز واقعے کو تین روز گزر گئے، ملزمان اب تک پولیس کی پکڑ میں نہ آسکے ہیں۔ علاقے کی جیو فینسنگ مکمل کرلی گئی ہے۔

گجرپورہ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید طریقہ تفتیش استعمال کیا جارہا ہے۔ پولیس نے موٹر وے کے اطراف کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکھٹے کرنا شروع کردیئے۔ آئی جی پنجاب کیس میں ہونے والی پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5 کلو میٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے۔ کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر سات مشتبہ افراد محمد کاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست میں لیا گیا۔ مشتبہ افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کروا لیئے گئے، جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : رواں برس کے 7 ماہ کے دوران سندھ میں 93 بچوں کے ساتھ زیادتی کا انکشاف

آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحیٰ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے معاملات کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل 15 مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی۔

تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ درندہ صفت ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا۔ متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس ٹیمیں شب و روز متحرک ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزیر قانون پنجاب کمیٹی کے کنوینیئر مقرر کیئے گئے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ کمیٹی کے ممبر ہیں۔ کمیٹی تین روز میں تحقیقات کرکے رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی۔

دوسری طرف پولیس کو زیادتی کا شکار خاتون کی گھڑی اور انگھوٹی مل گئی ہے۔

متعلقہ خبریں