عدالت کا الیکشن کمیشن میں ممبران کی تعیناتی کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کا حکم

ممبران کی تعیناتی

اسلام آباد : ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران کی تعیناتی کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کا حکم دیدیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ ڈیڈلاک کو ختم کرائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن میں نئے ارکان کی تعیناتی سے متعلق جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا، جس میں وفاق نے الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران تعیناتی کیس کی سماعت روکنے کی استدعا کی۔

یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن میں دو ممبران کی تعیناتی پر اپوزیشن اور حکومت میں ڈیڈ لاک برقرار

سیکرٹری وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار نے اسی نوعیت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے تک ہائی کورٹ سماعت نہ کرے، امید ہے سپریم کورٹ آئینی درخواست پر جلد سماعت کرے گی۔

سماعت کو موقع پر عدالت نے الیکشن کمیشن میں نئے ارکان کی تعیناتی کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینٹ ڈیڈ لاک کو ختم کرائیں اور الیکشن کمیشن کو نان فنگشنل ہونے سے بچائیں۔ عدالت اس حوالے سے تحریری حکم جاری کرے گی۔

وفاق کے جواب پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے، کیا آپ الیکشن کمیشن کو نان فنکشنل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا صرف سپریم کورٹ میں کیس زیرالتوا ہونے کی وجہ سے سماعت روکی جا سکتی ہے؟ الیکشن کمیشن تقریباً نان فنگشنل ہوچکا ہے۔ کیا پارلیمنٹ اتنا چھوٹا معاملہ بھی حل نہیں کرسکتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینٹ کو یہ معاملہ مشاورت سے حل کرنا چاہیے۔ عدالت نے استفسار کیا وفاقی حکومت ابھی تک ڈیڈ لاک کا دفاع کرنا چاہتی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے وفاقی حکومت سے ہدایات لینے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ پر اعتماد ہے، وہ اس معاملے کو حل کرے گی۔ کون کہے گا کہ پارلیمنٹ کے فورم پر یہ معاملہ حل نہیں ہونا چاہیے۔ آئینی اداروں کو نان فنکشنل نہیں ہونا چاہیے کیا حکومت یہ چاہتی ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینٹ کوشش کریں کہ الیکشن کمیشن نان فنکشنل نہ ہو۔