جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

دنیا کو افغانستان میں امن کیلئے طالبان کو وقت دینا چاہیے، وزیر اعظم کا سی این این کو انٹرویو

کو افغانستان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اتحادی ہونے کے باوجود امریکا نے پاکستان میں 480ڈرون حملے کیے، امریکا پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے جس کی تردید کرتا ہوں، دنیا کو افغانستان میں امن کیلئے طالبان کو وقت دینا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان کا امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ افغانستان اس وقت تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے، افغانستان کی صورتحال پریشان کن ہے، طالبان عالمی سطح پر خود کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں، افغانستان میں خواتین کے حقوق کا تحفظ وہ خود کریں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان خواتین طاقتور ہیں، وہ اپنے حقوق خود حاصل کرلیں گی، طالبان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، خطے کا امن افغانستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے، افغانیوں نے20سال میں بہت قربانیاں دی ہیں، پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو اپنی بقا کیلئے عالمی مدد کی ضرورت ہے، افغانستان میں امن و امان سے خطے کو فائدہ ہوگا، عالمی برادری مدد کرے افغانستان کو دہشت گردی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، افغانستان کو غیر ملکی فوج سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا ہمارے سامنے شرائط نہ رکھے ہم اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کسی بھی مسئلے کا حل فوجی نہیں، افغانستان میں کیا ہونے والا ہے پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، افغانستان میں تشدد، انتشار جیسے مسائل کے سرحد پار اثرات پڑتے ہیں، ہزاروں پاکستانی دہشت گردی میں جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا کا اتحادی بننے پر دہشت گردوں نے پاکستان میں حملے شروع کیے، اتحادی ہونے کے باوجود امریکا نے پاکستان میں 480ڈرون حملے کیے، افغانستان سے متعلق ایک بڑا مسئلہ مہاجرین بھی ہے،

نائن الیون کے بعد امریکا کے اتحادی بننے سے پاکستان میں مسائل ہوئے، امریکا کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف ایک فون کال پر منحصر نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے جس کی تردید کرتا ہوں، بار بار محفوظ ٹھکانوں کی بات کی جاتی ہے، سابق پاکستانی حکمرانوں نے امریکا کو انکار نہیں کیا اس لیے ان پر الزامات لگے، طالبان کو چاہیے کہ وہ تمام دھڑوں کو متحد کریں، افغانستان میں 40سال بعد امن قائم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عالمی برادری نے مدد نہ کی تو انتشار کا خدشہ ہے، طالبان کی شمولیتی حکومت کیلئے حوصلہ افزائی کی جائے، طالبان کا پورے افغانستان پر کنٹرول ہے، طالبان ایک جامع حکومت کی طرف کام کرسکتے ہیں، دنیا کو افغانستان میں امن کیلئے طالبان کو وقت دینا چاہیے۔ امریکا کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات کی ضرورت ہے، بار بار خبردار کیا امریکا عسکری طور پر مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔

متعلقہ خبریں