جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

افغانستان کو غیر ملکی فوج کی ضرورت نہیں، افغان فورسز کافی ہیں : افغان سیاسی رہنماء

افغانستان کو غیر

اسلام آباد : حسینہ سید کا کہنا ہے کہ افغانستان کو افغان فوج کے علاوہ کسی غیر ملکی فوج کی ضرورت نہیں۔ افغانستان کی سیکیورٹی کے لیے افغان فورسز کافی ہیں۔

انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز میں افغان سیاسی رہنما، انسانی حقوق کی علمبردار حسینہ سید کے اعزاز میں تقریب ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان سمیت علاقائی امن کے سلسلے میں کی جانے والی کاوشیں بہتر رہیں۔ پاکستان نے افغانستان نے امن کے لیے بہت مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن دشمن بہت ہیں، جن کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ ملک کی اقتصادی ترقی امن کیلئے ناگزیر ہے، افغانستان اور پاکستان کا رشتہ انتہائی مضبوط، اہم اور نہ ختم ہونے والا ہے۔ افغانستان کے لیے پاکستان اور پاکستان کے لیے افغانستان اہم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کسی سپر پاور کے مرہون منت نہیں۔ دونوں ممالک کے مابین معاشی، اقتصادی اور تجارتی تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔

افغانستان کی ترقی میں خواتین، نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ افغانستان ماضی کا افغانستان نہیں، آج کا افغانستان تبدیل ہو چکا ہے۔

افغان رہنماء نے کہا کہ آج افغانستان میں فلم میکرز تک خواتین ہیں۔ پاکستان میں بے نظیر بھٹو، بنگلہ دیش میں حسینہ واجد جیسی خواتین رول ماڈل ہیں۔ افغانستان کی خواتین حنا ربانی کھر جیسی خواتین کو بہت رشک سے دیکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان کی قیادت ماضی بھول کر پاکستان پر اعتماد کرے : وزیر خارجہ

حسینہ سید کا کہنا تھا کہ افغانستان میں شدت پسندی کی کوئی جگہ نہیں۔ افغان شدت پسند رہنماؤں کو خواتین کی مخالفت کا اب کوئی ذریعہ نہیں مل رہا۔ پاکستان سمیت علاقائی ممالک کا افغان امن کیساتھ خواتین، نوجوانوں کو آگے لانے میں کلیدی کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیرملکی افواج کے انخلاء کے ساتھ افغان فورسز کافی حد تک مضبوط ہو چکیں ہیں۔ افغان نیشنل آرمی کی مالیاتی مسائل بھی کافی حد تک حل ہو چکے۔ افغانستان کو افغان فوج کے علاوہ کسی غیر ملکی فوج کی ضرورت نہیں۔ افغانستان کی سیکیورٹی کے لیے افغان فورسز کافی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان، پاکستان کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے۔ افغانستان میں غربت کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی، معاشی ترقی کی اشد ضرورت ہے۔ معاشی و اقتصادی ترقی سے امن مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔

افغان رہنماء نے کہا کہ افغانستان، پاکستان راہداری کو مزید مضبوط بنانا، تجارت کو فروغ دینا ہو گا۔  افغان طالبان سمیت بیشتر آبادی پہاڑوں پر رہنے کی عادی ہو چکی تھی۔ افغان طالبان سمیت ترقی کا حصہ بن رہے ہیں۔ ملک معاشی اور اقتصادی سطح پر ترقی کرے گا تو شدت پسندی کم ہو گی۔ افغانستان کو غیر جانبدار ملک ہونا چاہیے، جانبداری درست نہیں۔ افغانستان جانبدار ملک رہا تو کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔

حسینہ سید کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک کو افغانستان کی مدد کرنا چاہیے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین باڑ کی تنصیب اچھا اقدام ہے۔

باڑ کی تنصیب سے نہ ہم پاکستان، نہ پاکستان افغانستان پر الزام تراشی کرے گا۔ افغان طالبان کے بچے اسکول جا رہے ہیں، تو ان کی ذہنیت بدل رہی ہے۔ افغان طالبان بھی پڑھے لکھے لوگ ہیں، یہ انتہائی اہم ہے۔ ہر چیز کو بدلنے میں وقت لگتا ہے، طالبان سمیت دیگر فریقین کو بھی بدلنے میں وقت لگے گا۔

متعلقہ خبریں