جی ٹی وی نیٹ ورک
ٹیکنالوجی

واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی، ٹیلی گرام پر صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کرگئی

واٹس ایپ

واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر سامنے آنے والی پیغام رسانی کی موبائل ایپلی کیشن ٹیلی گرام کے صارفین کی تعداد میں‌ ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے کمپنی نے اہم سنگ میل عبور کرلیا۔

واٹس ایپ کی متنازع پرائیویسی پالیسی کے بعد اب واٹس ایپ پر متحرک صارفین کی تعداد دن بہ دن کم ہورہی ہے۔،اب صارفین نے متبادل کے طور پر پہلے ٹیلی گرام پھر سگنل اور پھر بی آئی پی کو ترجیح دی ہے۔

متنازع پرائیویسی پالیسی کے بعد صارفین نے واٹس ایپ پر اس قدر تنقید کی کہ پہلے سربراہ اور پھر کمپنی کو علیحدہ علیحدہ وضاحت پیش کرنا پڑی، تاہم صارفین کا اعتماد تاحال بحال نہیں ہوسکا ہے۔

ٹیلی گرام 2013 میں تیار کی گئی تھی، اب واٹس ایپ کی متنازع پالیسی نے اس ایپلی کیشن کی قسمت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جنوری 2021 کے پہلے ہفتے میں متحرک صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کے دو بہترین اور زیادہ محفوظ متبادل ایپس

گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران دنیا بھر سے 25 کروڑ صارفین نے ٹیلی گرام پر اپنے اکاؤنٹ بنائے۔

کمپنی کے مطابق گزشتہ 3 روز کے دوران ایشیا سے 38 فیصد، یورپ سے 21، لاطینی امریکا سے 8 فیصد صارفین نے ٹیلی گرام کو جوائن کیا۔

گزشتہ برس کے اختتام پر صارفین کی کُل تعداد 1 کروڑ پچاس لاکھ کے قریب تھی مگر اب جس تیزی کے ساتھ تعداد بڑھ رہی ہے اُس کی مثال گزشتہ 7 سال میں نہیں ملتی۔

ٹیلی گرام کے پلیٹ فارم پر پرائیویسی پالیسی کا کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ سب کا ڈیٹا مکمل محفوظ ہے جبکہ سروس بھی بالکل مفت ہے۔

متعلقہ خبریں