جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

علی زیدی کا وزیر اعلیٰ سندھ کے خط پر وزیراعظم کو جوابی خط

جوابی خط

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خط پر وزیر بحری مور علی زیدی نے بھی وزیراعظم کو جوابی خط ارسال کردیا ہے۔

علی زیدی کا خط میں کہنا تھا کہ مراد علی شاہ نے ادب و شائستگی کی تمام حدود پھلانگ کر وزیراعظم کو خط بھجوایا ہے۔ مراد علی شاہ کا خط ان کے دماغ میں سمائے بلا جواز تکبر اور بے وجہ غرور کا مظہر ہے۔

خط کے مطابق انتظامی معاملات چلانا تو پہلے ہی مراد علی شاہ کے بس میں نہ تھا، موصوف گفتگو کے آداب سے بھی مکمل ناواقف اور بے بہرہ ہیں۔ کراچی کیلئے قائم کمیٹی کو 6 ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، جس میں 3 وفاقی وزراء بھی شامل ہیں۔

جوابی خط میں کہا گیا کہ چوروں کی سہولت کاری پر مامور مراد علی شاہ خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں نہ ہی کسی کو جوابدہ۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نچلی سطح تک منتقلی کے بارے میں استفسار پر موصوف برہم ہوئے۔

کمیٹی اجلاس میں اداروں کی نچلی سطح تک منتقلی پر ہونے والی ہر بحث کو ادھر ادھر کا رخ دے دینا مراد علی شاہ کا وطیرہ ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا راگ الاپنے والی جماعت کا وزیراعلیٰ 6 ماہ سے ان اداروں کی نچلی سطح تک منتقلی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ سندھ کا علی زیدی کے نامناسب رویے پر وزیر اعظم کو شکایتی خط

شہری سہولیات کی فراہمی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر صوبے میں لوٹ مار کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کراچی کے کچرے اور نالے صاف کرنے سے متعلق کمیٹی کو کئی اجلاس کرنا پڑے۔ بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کمیٹی کے یکے بعد دیگرے کئی اجلاس مراد علی شاہ کی نااہلی اور شرمناک نکمے پن کی علامت ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مالی و ادارہ جاتی معاونت کو بھی ضائع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مراد علی شاہ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو کراچی کے شہریوں کو مشکلات و مصائب کی دلدل سے نکالنے کی ساری کوششیں غارت جائیں گی۔

مراد علی شاہ کو وفاقی حکومت اور قوم سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری کا پابند بنایا جائے۔ کمیٹی کے رکن کے طور پر منصوبوں پر پیشرفت اور تکمیل میں تاخیر پر سوال پوچھنا میرا بنیادی حق ہے۔

علی زیدی نے خط میں مزید کہا کہ حفظ مراتب سے یکسر ناشناسا شخص کا بطور وزیراعلیٰ وزیراعظم کو بذریعہ خط مخاطب کرنے کا انداز بھی نہایت جاہلانہ ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ سندھ کے رویے اور طرز عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

متعلقہ خبریں