جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

سب کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے: آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

راولپنڈی: جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ فوج کی قیادت کبھی ملک کے خلاف نہیں جاسکتی، ملک معاشی بحران کا شکار ہے، کوئی ایک پارٹی مسائل حل نہیں کرسکتی، سب کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم شہدا و دفاع کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔

تقریب میں پاک فوج کے حاضر سروس، ریٹائرڈ افسران، شہدا کے لواحقین اور غازیوں نے شرکت کی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع و شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور آرمی چیف آپ سے آخری بار خطاب کررہا ہوں، 29 نومبر کو اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوجاؤں گا، فوج کبھی شہدا کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی، شہدا کے اہلخانہ ہمارا فخر ہیں، شہدا کے اہلخانہ کا حوصلہ ہمیشہ بلند پایا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث یوم شہدا کی تقریب دیر سے منعقد کی گئی ، فخر ہے 6سال عظیم فوج کا سربراہ رہا، فوج کا بنیادی کام ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے، فوج دہشتگردی کا مقابلہ کرنے سے کبھی غافل نہیں ہوگی، جو قومیں اپنے شہدا کو بھول جایا کرتی ہیں وہ قومیں مٹ جاتی ہیں، مشرقی پاکستان فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی، کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، غیر مناسب الفاظ میں مہم چلائی گئی، جھوٹے بیانیے کا جواب دینے کیلئے کافی حربے تھے تاہم ہم نے صبر سے کام لیا، اپنے اور فوج کے خلاف اس نامناسب طرز عمل کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں، امید ہے تمام سیاسی جماعتیں بھی اپنے ماضی کے طرز عمل پر نظر ثانی کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو نے وزارت دفاع کو لیفٹیننٹ جنرلز کے ناموں کی سمری بھیج دی

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ یہ بھی حقیقت ہے سول اداروں، سیاسی جماعتوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، وقت آگیا سیاسی جماعتیں اس صورتحال کا درست ادراک کرکے آگے بڑھیں، پاکستان میں سچا جمہوری کلچر اپنا نا ہوگا، 2018 میں آر ٹی ایس کو بنیاد بناکر جیتنے والی حکومت کو سلیکٹڈ کا لفظ دیا گیا، 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے بعد آنے والی حکومت کو امپورٹڈ کہا گیا، انتخابی عمل میں ہار جیت ہوتی ہے ہمیں یہ سوچ اور طرز عمل ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں ملک میں بیرونی سازش ہو اور فوج خاموش رہے، بیرونی سازش ہو اور فوج ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہے تو گناہ کبیرہ ہے، فوج کی قیادت کبھی ملک کے خلاف نہیں جاسکتی، ملک معاشی بحران کا شکار ہے، کوئی ایک پارٹی مسائل حل نہیں کرسکتی، سب کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مادر وطن کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، بھارتی فو ج دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی کرتی ہے، مگر بھارتی عوام بہت کم اپنی فوج پر تنقید کرتے ہیں، فوج کی سیاست میں مداخلت غیر آئینی ہے، پچھلے سال فروری میں فیصلہ کیا فوج اب سیاسی عمل میں کبھی حصہ نہیں لے گی، ہم سب نے متحد ہوکر پاکستان کی ترقی کےلیے کام کرنا ہے، شخصیات کوئی بھی ہوں پاکستان نے انشاءاللہ آگے بڑھنا ہے۔

متعلقہ خبریں