جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

1990 سے لے کر 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی شائع کرنے کا حکم

1990 سے

لاہور : عدالت نے تحائف دینے والے ممالک اور شخصیات کے نام سمیت 1990 سے لے کر 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی شائع  کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کے 1947 سے اب تک وصول کردہ تحائف، شخصیات کی حیثیت اور خرید و فروخت کی تفصیلات جاننے سے متعلق آئینی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 1947 سے لے کر آج تک توشہ خانہ سے جن شخصیات نے تحائف حاصل کیے ہیں، ان کی تفصیلات فراہم کی جائے۔ کس سیاست دان نے کتنے کا تحفہ حاصل کیا اس کی کتنی قیمت لگی تفصیلات دی جائے۔

درخواست کے مطابق عمران خان کے تحائف جب پبلک کر دئیے گئے ہیں تو دیگر شخصیات کے بھی کیے جائیں۔ عدالت توشہ خانہ کے تحائف کی تمام تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے۔

یہ بھی پڑھیں : توشہ خانہ کیس : نئی عدالتی آرڈر شیٹ تیار، عمران خان ذاتی حیثیت میں 30 مارچ کو طلب

لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ جس دوست ممالک نے تحائف دئیے، اس کا ریکارڈ بھی پیش کیا جائے۔ کوئی چیز قانونی طور پر طور پر چھپائی نہیں جا سکتی۔ جس شکل میں بھی تحائف دیئے گئے اس کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ جو بھی تحفہ مفت لے کر گیا ہے، وہ سرکار کا ہے۔ مفت تحفہ لینا غیر طور پر اعتماد کو کھونے کے برابر ہے۔ جب تک کوئی شخص توشہ خانہ سے وصول کردہ تحائف کی قیمت ادا نہیں کرتا وہ حاصل نہیں کر سکتا۔

درخواست گزار ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ اس شخص کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ عدالت نے 1990 سے لے کر 2001 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ بھی شائع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

متعلقہ خبریں