جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

امریکا کے بعد دوسرے ملکوں میں بھی نسل پرستی کیخلاف مظاہرے شروع

امریکا

واشنگٹن: امریکا میں سیاہ فام شہری کے قتل کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ امریکا سے باہر پھیلتا جارہا ہے، واقعہ کے بارویں روز دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہزاروں مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، برطانیہ، جرمنی ،فرانس اور آسٹریلیا میں بھی نسلی پرستی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جاری احتجاج کے بارویں روز مظاہرین کی بڑی تعداد نے وائٹ ہاؤس کی جانب بڑنے کی کوشش کی، پولیس نے وائٹ ہاؤس کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کر کے ان کو وائٹ ہاؤس کی جانب جانے سے روک دیا۔

وائٹ ہاؤس کے قریب جمع مظاہرین کا واشنگٹن کی میئر میریل بوسر نے خیر مقدم کیا اور اپنی خطاب میں کہا کہ مظاہرین کا پیغام صدر ٹرمپ تک پہنچا دیا گیا ہے، ہمیں اس سلسلہ میں مظاہرین کے جزبات کا خیال کرنا ہوگا، وہ ہمارے شہری ہیں، واشنگٹن کے علاوہ نیویارک، سان فرانسسکو اور شیکاگو میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت کے خلاف برطانیہ میں بھی مظاہرے شروع ہوئے، مظاہرین بڑی تعداد پارلیمنٹ کے قریب سینٹرل اسکوائر میں جمع ہوئے اور جارج فلیویئڈ سے اظہار یکجہتی کیا۔

آسٹریلیا کے تین شہروں میلبرن، سڈنی اور برسبین میں نوجوانوں نے بڑی تعداد میں باہر نکل کر اپنے جزبات کا اظہار کیا، ان میں قدیم آسٹریلین شہریوں کی تعداد نمایاں تھی۔

کینیڈا اور اسپین میں بھی نسل پرستی کے خلاف ریلیاں نکالی گئی۔

متعلقہ خبریں