جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا فیس بک سے روہنگیا مخالف مواد پر معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ

روہنگیا مخالف

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیس بک پلیٹ فارم پر روہنگیا مخالف نفرت انگیز مواد کو روکنے میں ناکامی کے باعث تشدد کا سامنا کرنے والے افراد کو معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے فیس بک پلیٹ فارم پر روہنگیا مخالف نفرت انگیز مواد کے مضمرات کے بارے میں کمپنی کو بار بار خبردار کرنے کے باوجود میٹا پر کارروائی کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کرنے کے بعد معاوضے کا مطالبہ کردیا ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر قتل اور عصمت دری کی مہم سے تقریباً پانچ سال قبل 2012 کے اوائل میں ہی میٹا کے ساتھ اس مسئلے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل، ایگنیس کالمارڈ نے کہا ہے کہ فیس بک کے الگورتھم روہنگیا کے خلاف نفرت کے طوفان کو تیز کر رہے تھے، جس نے حقیقی دنیا میں تشدد میں اضافہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : بنگلہ دیش میں میانمار سے مارٹر شیل گرنے سے ایک روہنگیا نوجوان ہلاک، 6 زخمی

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ جب میانمار کی فوج روہنگیا کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہی تھی، تب وہ میٹا کے نفرت پھیلانے والے الگورتھم سے پیدا ہونے والی نفرت سے فائدہ اٹھا رہی تھی۔ میٹا کو حساب دینا ہوگا۔ اب کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو معاوضہ فراہم کرے، جنہوں نے لاپرواہ اقدامات کے پرتشدد نتائج کا سامنا کیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ کمپنی کو اپنے الگورتھم میں بنیادی تبدیلیاں بھی کرنی چاہئیں، جو فعال طور پر ایسے مواد کو بڑھاتے اور تقسیم کرتے ہیں جو تشدد اور امتیازی سلوک کو ہوا دیتا ہے اور اس مواد کو براہ راست پہنچاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اس طرح کی اشتعال انگیزی پر عمل کرتے ہیں۔

ایمنسٹی نے 22 سالہ روہنگیا خاتون شوکتارا کے حوالے سے کہا کہ فیس بک کو ادائیگی کرنی ہوگی۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم دنیا کی ہر عدالت میں جائیں گے۔ ہم اپنی جدوجہد میں کبھی ہار نہیں مانیں گے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے پہلے کہا ہے کہ فیس بک نے روہنگیا کے خلاف تشدد کو ہوا دینے میں کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ خبریں