جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبر

کل ایک بیان سے قومی سلامتی کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی : ڈی جی آئی ایس پی آر

کل ایک بیان سے

روالپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کل ایک ایسا بیان دیا گیا جس میں قومی سلامتی سے منسلک معاملات کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پریس کانفرنس کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے۔ ریکارڈ کی درستگی کے لیئے بات کررہا ہوں، کل ایک ایسا بیان دیا گیا جس میں قومی سلامتی سے منسلک معاملات کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد 26 فروری کو بھارت نے تمام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جارحیت کی۔ جس میں نہ صرف انہیں منہ کی کھانی پڑی بلکہ پوری دنیا میں ہزیمت اٹھانا پڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کے چوکنا اور بروقت رسپانس نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنادیا،

دشمن کے جہاز جو بارود پاکستان کے عوام پر گرانے آئے تھے، ہمارے شاہینوں کو دیکھتے ہی بدحواسی میں خالی پہاڑوں پر پھینک کر چلے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواج پاکستان نے قوم کے عزم کے عین مطابق دشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا، اس فیصلے میں پاکستان کی تمام سول اور ملٹری قیادت یکجا تھی۔ پاکستان نے اعلانیہ دن کی روشنی میں جواب دیا۔ ہم نے نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ دشمن کے دو جنگی جہاز بھی مار گرائے۔

ونگ کمانڈر ابھینندن کو گرفتار کرلیا گیا اور دشمن اس ساری کارروائی کے دوران اتنا خوفزدہ ہوا کہ کے بد حواسی میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر اور جوانوں کو مار گرایا۔ اللہ کی نصرت ہمیں ہندوستان کے خلاف واضح فتح نصیب ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس کامیابی سے نہ صرف بھارت کی کھوکھلی قوت کی قلعی دنیا کے سامنے کھلی، بلکہ پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا

اور مسلح افواج سرخرو ہوئی۔ پاکستان کی فتح کو نہ صرف دنیا میں تسلیم کیا گیا۔ بلکہ خود ہندوستان کی قیادت نے اس شکست کا جواب رافیل طیاروں کی عدم دستیابی پر ڈال دیا۔

یہ بھی پڑھیں : 2028 تک بھی حکومت کہیں نہیں بھیج سکتے، زور لگا لیں اور ہم بھی لگا لیتے ہیں : فواد چوہدری

حکومت پاکستان نے ایک ذمہ داری ریاست کے طور پر امن کو ایک اور موقع دیتے ہوئے ونگ کمانڈر ابھینندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ذمہ دارانہ فیصلے جو کہ جینیوا کنوینشن کے تحت تھا پوری دنیا نے سراہا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میں یہاں ایک مرتبہ پھر تاریخ کی درستگی کے لیئے واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان نے پہلے اپنی قابلیت کا مظاہرہ کیا اور یہ فیصلہ تمام جنگی آپشن کو مد نظر رکھتے کیا گیا۔ پاکستان کی قیادت اور افواج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے پوری طرح تیار تھی۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ہندوستانی جنگی قیادت ونگ کمانڈر ابھینندن کی رہائی اور ایک ذمہ داری ریاست کے ردعمل کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ جوڑنا انتہائی افسوسناک اور گمراہ کن ہے۔

یہ دراصل پاکستانی قوم کی ہندوستان پر واضح برتری اور فتح کو متنازعہ بنانے کے مترادف ہے اور یہ چیز کسی بھی پاکستانی کے لیئے قابل قبول نہیں ہے۔

ایسی منفی بیانیے کے براہ راست اثرات قومی سلامتی پر ہوتے ہیں۔ ان چیزوں کا دشمن بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے، جس کی آپ ایک جھلک بھارتی میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہی بیانیہ ہندوستان کی شکست ہر ہزیمت کو کم کرنے کے لیئے استعمال کیا جارہا ہے۔

ان حالات میں جب دشمن قوتیں پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کرچکی ہیں، ہم سب کو انتہائی ذمہ داری سے آگے بڑھنا ہوگا۔ افواج پاکستان خطے کی سیکورٹی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور اندورونی اور بیرونی خطرات سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ تمام چیلنجز سے مقابلے کے لیے ہر طرح سے تیار ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قوم کی مدد سے پاکستان کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ مسلح افواج ایک منظم ادارہ ہے اور مسلح افواج کی قیادت اور رینک اور فائل کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔ مسلح افواج کی قیادت اور رینک اینڈ فائل میں کسی قسم کی تفریق نہیں ڈالی جاسکتی، یہ اکائی ہے اور اکائی رہے گی۔

متعلقہ خبریں