جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اسلام آباد سے ایک اور اسکینڈل آئے گا، اربوں روپے کمائے گئے : شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد سے ایک

اسلام آباد : شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ابھی اسلام آباد سے ایک اور اسکینڈل سامنے آئے گا، حکومتی مشینری استعمال کر کے اربوں روپے کمائے گئے۔

مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کا عمل جس طرح جاری ہے، وہ سامنے ہے۔ وکلاء سے پوچھا یہاں پر تین عدالتیں ہیں، کیا کوئی سزا بھی ہوئی ہے؟ وکلاء نے کہا دو کیسز میں سزا ہوئی ہے جبکہ دو کو بری کیا گیا ہے۔ جن دو میں سزا دی گئی وہ نواز شریف کے کیسز تھے۔

انہوں نے کہا کہ کیمرے لگا کر عدالتوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے۔ چئیرمین نیب خود جج رہ چکے ہیں وہ آئین اور دیکھیں عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران نے فرمایا سیاستدان کرپٹ ہو ملک تباہ ہو جاتا ہے۔ کرپٹ ترین حکومتیں وفاق اور صوبوں میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوائیوں، چینی، گندم اور براڈ شیٹ میں وزیر پیسے کھا گئے۔ رنگ روڈ میں مشیر وزیر اربوں روپے کھا گئے ہیں۔ کبھی کابینہ میں بحث ہوئی مہنگائی ہو رہی ہے؟

ابھی اسلام آباد سے ایک اور اسکینڈل سامنے آئے گا، حکومتی مشینری استعمال کر کے اربوں روپے کمائے گئے۔ کوئی حکومتی وزیر اسمبلی میں کہہ سکا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مسلم لیگ ن کے بیانیہ کے حوالے سے پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں : شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کل اتنا بڑا ٹرین کا حادثہ ہوا، کسی کے چہرے پر ندامت نہیں تھی۔ وفاقی وزراء نے سابق حکومت پر ٹرین حادثےکی ذمہ داری ڈال دی۔ ٹرین حادثہ پر وزیراعظم اسمبلی میں نہیں آیا۔ جاری منصوبے مکمل نہ ہو سکے، کرپشن اس بات سے عیاں ہے۔ جس ٹریک پر حادثہ ہوا اس کی مینٹینس کے پیسے کرپشن کی نظر ہو گئے۔

لیگی رہنماء کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام دیکھ رہی ہے لوگ تکلیف میں ملک مشکل میں ہے۔ پاکستان کے عوام ان حکمرانوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔ ٹویٹ سے اظہار افسوس نہیں ہوتا، نالائقی اور کرپشن ہے،

کمیشن پر کمیشن بنتا ہے جو پیسے کھانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتا۔ حادثہ کیوں پیش آیا یہ کوئی نہیں کہے گا۔ وزیراعظم عوام سے اظہار ہمدردی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا کام الیکشن میں ہوگا، تاریخ کے پہلے شفاف الیکشن ہوں گے۔ دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ ڈالروں میں ہوتا ہے۔ اس دفعہ دفاعی بجٹ میں کمی آئیگی۔ 2013 سے 2018 تک ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا۔ 1948 سے 2018 تک کوئی بھی الیکشن شفاف نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ سیاسی جماعت ہیں، ہم نے عوام کے مسائل کی بات کرنی ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے درخواست ہے بات کرنے کا سلیقہ سیکھ لیں۔

متعلقہ خبریں