جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

ایک اور خاتون کا علی ظفر کیخلاف 50 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ

ہرجانے دعویٰ

کراچی: معروف گلوکار علی ظفر کے خلاف پچاس کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔ عدالت نے سیشن جج لاہور کے ذریعے علی ظفر کو 25 جنوری کے لئے نوٹس جاری کردیے۔

خاتون لینا غنی کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ علی ظفر نے پہلی مرتبہ 2014 لندن میں پاکستانی فیشن کے دوران حراساں کیا، جون 2014 میں دو مرتبہ پھر اس طرح نازیبا گفتگو کی اورعلی ظفر نے جولائی 2014 میں بہت بڑی فارم میں کام کی آفر بھی جس پر میں شائستگی سے انکار کردیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ 19 مارچ 2018 کو معروف سنگر میشا شفیع اور ایکٹریس صباء قمر نے بھی علی ظفر پر حراساں کرنے کے الزامات عائد کئے، علی ظفر کا 20 دسمبر 2020 کا ری ٹوئٹ اور 22 دسمبر کا ٹوئٹ جھوٹ پر مبنی ہے۔ علی ظفر کے ان ٹوئٹس کو بد نیتی پر مبنی قرار دیا جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دونوں ٹوئٹ اور ری ٹوئٹ میں دعوا کیا گیا تھا کہ علی ظفر مہم میں لینا غنی کا ہاتھ ہے، دونوں ٹوئٹس لینا غنی کی ساکھ نقصان پہنچانے اور عوام کی نظروں میں نیچا دکھانے کے لئے کئے گئے تھے۔ درخواست گزار کے 19 اپریل 2018 کو سچ پر مبنی قرار دیا جائے اور قرار دیا جائے کہ علی ظفر کے خلاف درخواست گزار کسی آن لائن کمپین کا حصہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کیس؛ پاکستان کی دو مشہور فنکارہ بھی ملزمان میں شامل

درخواست گزار نے کہا کہ علی ظفر کو میرے خلاف سوشل میڈیا سمیت آن لائن، ٹی وی چینلز پر مواد اور خبریں چھپوانے سے روکا جائے، خدشہ ہے کہ ایسے مواد اور خبروں سے مجھے نیچے دیکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

درخواست میں کہا گیا کہ خاتون کا میشا شفیع سے کوئی تعلق نہیں ہے، درخواست گزار کو ذہنی اذیت دینے پر علی ظفر سے پچاس کروڑ روپے معاوضہ دلوایا جائے۔

متعلقہ خبریں