جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

اے پی سی؛ الیکشن کے نتائج میں تبدیلی نہ ہوتی تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی: نواز شریف

نواز

اسلام آباد: حکومت کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے جس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہیں۔

لندن سے اے پی سی میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے۔ اے پی سے جو بھی لائحہ عمل طے کرے گی مسلم لیگ ن اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے لائحہ عمل طے کریں گے۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا کہ ملک میں ہر ڈکیٹیٹر نے وسط نو سال حکومت کی، آئین پر عمل کرنے والے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ عوام کی ووٹ سے جمہوری حکومت بننے پر ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اختیار چند لوگوں کو دے دینا بددیانتی ہے۔ الیکشن کے نتائج میں تبدیلی نہ ہوتی تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی، دکھ کی بات ہے معاملہ ریاست سے اوپر تک پہنچ چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری تاریخ میں 33سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہو گیا۔ 73سالہ تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی،ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پروا نہیں کی جاتی۔عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے،پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کو نکال کر اور جمہوریت بحال کر کے رہیں گے، آصف زرداری کا اے پی سی سے خطاب

نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ مل کر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے۔ خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوچنا چاہیے کیوں ہمارے قریبی ممالک ہم پر اعتماد کرنا چھوڑ گئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت بیان دیے جس سے سعودی عرب ناراض ہوا۔ بھارت نے کٹھ پتلی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا ہے اور ہم احتجاج بھی نہ کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا تو کیا اپنے دوست ممالک کی حمایت بھی حاصل نہ کر سکے۔کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں،کیوں دنیا ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔نالائق حکومت نے ہر معاملے ہر یوٹرن لیا۔کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی ملکی مفادات سے متصادم نہیں ہونی چاہیے۔ سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا ہے جہاں کئی سال بیت جانے کے باجود روازنہ مسائل کا سامنا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آمر کے بنائے گئے ادارے نیب کو قائم رکھنا ہماری غلطی تھی۔ اس ادارے کا سربراہ جاوید اقبال اپنے اختیارات کا نازیبا استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور یہ ڈھٹائی سے انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ ان کا یوم حساب آئے گا، نیب کا ادارہ اپنا جواز کھو بیٹھا۔

متعلقہ خبریں