18 اپریل: قومی ورثے کا دن

کراچی: خیال رہے ہم سے ہماری پہچان نہ کہیں کھو جائے ۔ اپنی تہذیب ،ثقافت اور ورثے کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی قومی ورثے کا دن منایا جا رہا ہے۔

ہر قوم کا سرمایہ اس کا تاریخی ورثہ ہوتا ہے۔ اسی سرمائے کے تحفظ کیلئے دنیا بھر میں 18 اپریل کو قومی ورثے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز یونیسکو کی جانب سے کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد ثقافتی ورثے کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کے حوالے سے آگاہی دینا ہے۔

پاکستان تاریخی ورثے کے حوالے سے مالامال ہے۔ لیکن نوجوان نسل کو اس کی قدر نہیں۔ ان میں اس ورثے اور ثقافت کے حوالےسے آگاہی اور واقفیت تقریبا نا ہونے کے برابر ہے۔

پاکستانی ثقافت اور ورثہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب مہر گڑھ سے لے کر برطانوی تہذیبوں کا بھی امین رہا ہے۔پاکستانی ورثے میں تاریخ کا حصہ رہنے والی مختلف ثقافتیں بھی شامل ہیں۔

پاکستانی ثقافت اور ورثے کی بات کی جائے تو یونیسکو بھی پاکستان کے چھہ مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر چکا ہے جن میں موہنجو داڑو، شاہی قلعہ لاہور، شالامار باغ، مکلی قبرستان، تخت بھائی کھنڈرات اور قلعہ روہتاس شامل ہیں۔

پاکستان کے ورثے کے تحفظ کے لئے حکومت کو کوششیں کرنا ہونگی اور قدیم تاریخی عماران کی دیکھ بھال کیلئے انتظامات وسیع تر کرنا ہوں گے ۔