جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر فیصلہ محفوظ

مدت ملازمت سوال

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خان اور آرمی چیف کے وکیل فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے جنرل ریٹائرڈ پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن اور سابق آرمی چیف راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا نوٹی فکیشن طلب کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے دستاویزات بھی پیش کریں، وہ جب ریٹائر ہوئے تو اس نوٹی فکیشن کے کیا الفاظ تھے وہ بھی پیش کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا گیا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، اگر جنرل ریٹائر نہیں ہوتے تو پنشن کیوں دی جاتی ہے۔ جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی کو ریٹائرمنٹ کی بعد کتنی پنشن ملی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے، آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کردی، تعنیاتی اورتوسیع سے متعلق آرمی ریگولیشنزکی کتاب کو چھپا کر کیوں رکھا گیا، اس کتاب پرلکھا ہے کوئی غیرمتعلقہ شخص پڑھ نہیں سکتا، کیوں آپ نے اس کتاب کو سینے سے لگا کر رکھا ہوا تھا، بھارت اور دیگر ممالک میں آرمی چیف کی تعیناتی اور مدت واضح ہے، اب عدالت میں معاملہ پہلی بار آگیا ہے تو واضح ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ملک کی فوج کا عدالت احترام کرتی ہے لیکن آئین اور قانون ہر شے سے بالاتر ہے۔ چیف جسٹس کا فروغ نسیم سے دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے،

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے؟ آپ کو ہمیں مطمئن کرنا ہوگا، اب ہونے والی تعیناتی درست کیسے ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نئی تعیناتی 243 (1) بی کے تحت کی گئی ہے، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کو ہمیں مطمئن کرنا ہوگا، اب ہونے والی تعیناتی درست کیسے ہے؟ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کردیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں، عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ہدایت کی کہ سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں۔

دورانِ سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی ہوئی۔

اٹارنی جنرل نے اس پر مؤقف اپنایا کہ اگرمدت مقرر نہ کریں تو تاحکم ثانی آرمی چیف تعینات ہوگا، مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہوجاتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کل آپ کہہ رہے تھے جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، واضح ہونا چاہیے جنرل کو پینشن ملتی ہے یا نہیں، پارلیمنٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں جو سسٹم ٹھیک کرسکے۔

اس موقع پر بنچ کے رکن جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ یہ بھی طے کرلیا جائے آئندہ توسیع ہوگی یا نئی تعیناتی۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے آئین و قانون کو کیا دیکھا ہمارے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوگیا، کہہ دیا گیا کہ یہ تینوں جج سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں، الزام لگایا گیا کہ ہم بھارت کی ایما پر کام کررہے ہیں، کہا گیا کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہے، ہمیں پوچھنا پڑا کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہوتی کیا ہے، کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کو بھارتی چینلز پر چلایا جارہا ہے، آئینی اداروں کے بارے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس کھوسہ کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا لیکن سوشل میڈیا کسی کے کنڑول میں نہیں۔

عدالت نے کہا کہ آپ 3 سال کے لیے توسیع دے رہے ہیں، کل کوئی قابل جنرل آئے گا تو پھر کیا اسے 30 سال کے لیے توسیع دیں گے؟

چیف جسٹس پاکستان نے انتہائی اہم ریمارکس دیے کہ آئینی اداروں کے بارے میں ایسا نہیں کرنا چاہیے، آپ 3 سال کے لیے توسیع دے رہے ہیں، کل کوئی قابل جنرل آئے گا تو پھر کیا اسے 30 سال کے لیے توسیع دیں گے؟

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ میں ابہام ہے، آپ رولز میں ترمیم کرتے رہے ہیں، پھر ہم نے ایڈوائزری کردار لکھ دیا۔

عدالت کی جانب سے نوٹیفکیشن طلب کرنے پر جنرل ریٹائرڈ کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع اور جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی دستاویزات بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔

نوٹیفکیشن پڑھ کر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس نوٹی فکیشن میں بھی نہیں لکھا کہ توسیع کس نے دی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوٹی فکیشن سے پہلے سمری تیارکی جاتی ہے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ قانون بنانے میں کتنا وقت لیں گے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون بنانے کےلیے ہمیں 3 ماہ کا وقت چاہیے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ جن جن لوگوں نے ملک کی خدمت کی وہ ہمارے لیے محترم ہیں لیکن آئین اور قانون سب سے مقدم ہے، حکومت پہلی بار آئین پر واپس آئی ہے، جب کوئی کام آئین کے مطابق ہوجائے تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔

معزز چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت کا کندھا استعمال نا کریں، آئندہ کے لیے بھی سپریم کورٹ کا نام استعمال ہوگا، آرٹیکل 243 میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا عدالت نے توسیع کردی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی، آپ نے کہا ہے کہ قانونی سازی کیلئے 3 ماہ چاہئیں تو ہم 3 ماہ کیلئے اس کی توسیع کردیتے ہیں۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، فیصلہ دوپہر کو سنایا جائے گا اور عدالت نے اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم کو ہدایت کی کہ 4 نکات پر مشتمل تحریری بیان جمع کرائیں۔

متعلقہ خبریں