جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

اسد امانت علی: تو شمع محبت ہے، میں ہوں تیرا پروانہ

اسد امانت علی

مرحوم اسدامانت علی کی عمر اُس وقت لگ بھگ 20 سال تھی جب ان کے والد استاد امانت علی خاں کا انتقال ہوا تھا اسد اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے

انھوں نے موسیقی کی تربیت اپنے دادا مرحوم استاد اختر حسین سے حاصل کی۔ بعد ازاں انھیں ان کے والد استاد امانت علی خاں اور تایا استاد فتح علی خاں نے بھی دی اسد امانت علی خاں نے اپنی خاندانی روایت کے مطابق اپنے سب سے چھوٹے چچا استاد حامد علی خاں کے ساتھ جوڑی کے طورپرکلاسیکی گائیکی کا آغاز کیا۔

ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلم کے لیے سیکڑوں گیت اور غزلیں گائیں جن میں متعدد گیت اور غزلیں زبان زد عام ہوئیں ۔70 کی دہائی میں اسد امانت علی خاں نے متعدد فلموں کے لیے گیت گائے ان کے مشہور گیتوں میں ’’تو شمع محبت ہے، میں ہوں تیرا پروانہ‘‘ ، ’’میں تجھے دل سے پیارکرتا ہوں،

تو مجھے زندگی سے پیارا ہے‘‘، ’’عمراں لنگیاں پباں بھار‘‘ سمیت بہت سے گیت اورغزلیں مشہور ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:جدید قوالی کے بانی نصرت فتح علی خان کی برسی آج منائی جارہی ہے

انھیں گائیکی کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے پر پرویز مشرف کے دور میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی عطا کیا گیا۔

گلوکار اسد امانت علی خاں 54 سال کی عمر میں لندن میں علاج کی غرض سے گئے جہاں 8 اپریل 2007 میں انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ یوں وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

 

متعلقہ خبریں