آصف زرداری کی جیل سے اسپتال منتقلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسپتال منتقلی

اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کی جیل سے اسپتال منتقلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

احتساب عدالت میں سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی جیل سے اسپتال منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ جج احتساب عدالت محمد بشیر نے درخواست پر سماعت کی۔

سماعت پر لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے کہ نیب کی رپورٹ کے مطابق 29 کو پمز اسپتال منتقل کرنے اور 30 کو ڈسچارج کا لکھا ہوا ہے۔ رپورٹ میں پہلے 6 پوائنٹ کا ذکر نہیں 7 ویں پوائنٹ سے تحریر کیا ہوا ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر کو اسپتال منتقل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : والد سے دوری ہمارے لیئے حبسِ دم جیسی ہے : بختاور بھٹو زرداری

لطیف کھوسہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ہرگز نہیں کہا گیا کہ داخل کر کے اگلے دن ڈسچارج کر دیں۔ سابق صدر آصف علی نے عدالت میں کہا کہ خدانخواستہ کچھ ہوتا ہے تو ڈیڑھ گھنٹہ شفٹ کرنے میں لگے گا۔ میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا کہ آصف زرداری کو اے سی روم، فریج دیا جائے۔

لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ سابق صدر کو ایٹنڈنٹ بھی فراہم کیا جائے۔ جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ جیل میں کیسے پرائیویٹ فرد کو رکھا جا سکتا ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ پرائیویٹ فرد باہر کیمپ میں رہیں گے، ایک بندہ دن میں اور ایک رات میں رہے گا۔

لطیف کھوسہ کی دائر کردی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آصف زرداری کی جان کو خطرہ ہے، جیل میں طبی سہولتیں ملنا، آصف زرداری کا حق ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق صدر کو جیل سے اسپتال منتقل کیا جائے۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔