جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے : شبلی فراز

انتخاب کو متنازعہ بنانے

اسلام آباد : شبلی فراز کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اب ماضی اور قصہ پارینہ ہے، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اس قسم کی باتوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کو مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیراعظم ماضی میں نظر انداز علاقوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ مرزا آفریدی کا تعلق فاٹا اور صادق سنجرانی کا بلوچستان سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بلوچستان کے لیے تاریخی پیکیج دیا۔ فاٹا کو 100 ارب سالانہ کا بجٹ دیا گیا۔ فاٹا کا انضمام کرایا، یہ آسان کام نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے لندن اور پورے پاکستان میں جائیدادیں بنائی ہیں۔ نوازشریف، آصف زرداری اور دیگر 30 سال سے حکومت کررہے تھے۔ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، ادارے مفلوج تھے۔ عوام کو مصنوعی جھلک دکھائی گئی، عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔ عوام کو خوشحالی نہیں ملی، ان کے اثاثوں میں اضافہ ہوا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف سیاست میں آئے تو ایک فیکٹری تھی، پھر 29 فیکٹریاں بن گئیں۔ ان لوگوں نے ذاتی مقاصد کے لیے اداروں کو استعمال کیا۔ پیپلز پارٹی نے نظریے سے ہٹ کر ذاتی مقاصد کے لیے کام شروع کردیا۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ علاقائی جماعتوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ پیپلز پارٹی فیڈریشن کی جماعت تھی، اب کمزور ہو کر دیہی علاقوں میں چلی گئی۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے حکومت کام نہ کرسکے، عوام کی خدمت نہ کرسکے۔ ان کی کوشش ہے آئے روز شوشے چھوڑے جائیں، ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو۔ ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو تو اس کا نقصان ملک اور عوام کو ہوتا ہے۔ سینیٹ میں اکثریت نہیں تھی، اصلاحات نہیں لا پارہے تھے اور رکاوٹیں تھیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اکثریت میں آگئے ہیں، عوام کیلئے ریفارم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت بہتر ہورہی ہے، مہنگائی کا چیلنج ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ عمران خان کے آنے کے بعد ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ارسطو سعید غنی سینیٹ الیکشن پر بات کررہے تھے۔ وزیراعظم نے ہمیشہ کہا ہے کہ الیکشن میں اوپن ووٹنگ ہونا چاہیے۔ جس نے مخالفت کرنا ہے کھل کر مخالفت کرے۔ اوپن ووٹ کے لیے ہم عدالت بھی گئے، آرڈیننس بھی لائے۔

یہ بھی پڑھیں : سعید غنی کا سیکریٹری سینیٹ پر دھاندلی کا الزام، جیل میں ڈالنے کا مطالبہ

شبلی فراز نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں اپوزیشن نے اوپن ووٹ کی بات کی تھی، وزیراعظم نے کہا تھا کہ اوپن ووٹنگ کی بات مان لیں، اب رو رہے ہیں۔  ہم تیار تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کون ووٹ چور اور کون خریدار ہے۔ ہم نے ہر حربہ استعمال کیا کہ الیکشن شفاف ہوں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی تھپڑ مارے اور ہم دوسرا گال آگے کردیں ہم مسلمان ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی سے اتنی محبت تھی ممبران کی کہ انہوں نے امیدوار کے نام پر ٹھپہ لگا دیا۔ کلپس موجود ہیں کہ مہر کہاں لگانی ہے، صادق سنجرانی کے ووٹرز میں سے کسی نے ان کے نام پر مہر نہیں لگائی۔ اس قسم کی باتوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا، سینیٹ آف پاکستان کے الیکشن میں چیزیں واضح تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس انتخاب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اب آگے دیکھنا ہوگا۔ ان تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

پی ڈی ایم اب ماضی اور قصہ پارینہ ہے۔ پی ڈی ایم کا اتحاد غیر فطری ہے، یہ ایک منزل پر نہیں پہنچ سکتے، ان کا صرف ایک ڈھکوسلہ تھا۔ یہ صرف اپنا ریلیف اور این آر او چاہتے تھے جو انہیں نہیں ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک چھرا تھا جو ن لیگ نے پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی کی پیٹھ میں مارا ہے۔ طلال چوہدری اور بلاول بھٹو کا مکالمہ واضح ہے کہ یہ آپس میں سنسئیر نہیں ہیں۔ ہمیں کسی لانگ مارچ اور شارٹ مارچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم انہیں ایک گملہ توڑنے کی اجازت نہیں دینگے۔

متعلقہ خبریں