جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کرنل انعام الرحیم جاسوس ہیں، اٹارنی جرنل کا سپریم کورٹ میں بیان

کرنل انعام الرحیم

اسلام آباد : اٹارنی جرنل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کرنل انعام الرحیم جاسوس ہیں، ان کے پاس جوہری ہتھیاروں، آئی ایس آئی اور کچھ لوگوں کے حوالے سے اہم معلومات تھیں۔

سپریم کورٹ میں کرنل انعام الرحیم کی رہائی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں سر بمہر رپورٹ جمع کروائی۔

جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ کیس کس بنا پر قائم کیا گیا یہ بتائیں؟ کوئی وجہ تو ہوگی گرفتاری کی؟ قانون کے مطابق گرفتاری کی وجوہات بتانا لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عراق نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث 9 جاسوس پکڑ لیئے

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لیپ ٹاپ کے اندر سے بہت سا مواد ملا ہے۔ چیمبر میں سماعت کر لیں میں سب بتانے کو تیار ہوں۔ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ہم جرم کی نوعیت دیکھنا چاہ رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کرنل انعام کے پاس جوہری ہتھیاروں، آئی ایس آئی اور کچھ لوگوں کے حوالے سے معلومات تھیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ کا کہنے کا مطلب ہے کہ ان کے پاس معلومات ہیں جو انہوں نے دشمن سے شئیر کیں، کرنل انعام الرحیم ایک جاسوس ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی کرنل انعام الرحیم ایک جاسوس ہیں۔ کرنل انعام الرحیم کے خلاف ابھی تحقیقات چل رہی ہیں۔ ان کے پیچھے پورا ایک نیٹ ورک ہے جس میں متعدد لوگوں کی گرفتاریاں ہونی ہیں۔  

جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ تحقیقات کس مقام پر پہنچ چکی ہیں؟ آرمی ایکٹ کورٹ مارشل کا ذکر کرتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں کورٹ مارشل سے متعلق کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ تحقیقات مکمل نے کے بعد کرنل انعام کے پاس تمام حقوق ہوں گے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ جب تک انکوائری ہورہی ہے اس وقت تک انتظار کر لیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں