جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

مارچ کی اجازت سے انتشار کے خواہشمندوں کا منہ بند ہو گیا : وزیرِ داخلہ

وزیرِ داخلہ

اسلام آباد : وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ مولانا مارچ کریں، لیکن دھرنے سے متعلق عدالتی فیصلوں کی پابندی کرنا ہوگی۔ وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ میں سیاسی آدمی ہوں، مولانا کو آزادی مارچ سے نہیں روکوں گا

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے کہا کہ مارچ کریں گے یا دھرنا دیں گے اس کا صرف مولانا کو ہی پتہ تھا، ان کے اتحادیوں کو معلوم نہیں تھا، حکومت اور اپوزیشن کی بیان بازی سے سیاسی ماحول کشیدہ ہوا۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے آزادی مارچ کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے سے انتشار پھیلنے کے خواہش مندوں کا منہ بند ہو گیا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ دھرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کی پابندی کرنا ہو گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ رہبر کمیٹی نے اپوزیشن کمیٹی کو ڈی چوک پر خطرات سے آگاہ کیا، رہبر کمیٹی سے حکومتی کمیٹی نے کسی مطالبے پر بات نہیں کی، صرف خطرات سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : آزادی مارچ اپنی آخری منزل اسلام آباد کی جانب رواں دواں

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسلام آباد پر کئی بار یلغار ہوئی، قاضی حسین احمد کے احتجاج میں جانی نقصان ہوا تھا، 2016 میں خیبر پختونخوا والوں کو اسلام آباد نہیں آنے دیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ پہلے ایک تھا، لیکن اب 6 ہوگئے ہیں، مولانا فضل الرحمان کا مارچ اپوزیشن کے مارچ میں تبدیل ہوگیا ہے، وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ میں سیاسی آدمی ہوں مولانا کو نہیں روکوں گا، پہلی بار وزیراعظم نے قدم اٹھایا انہوں نے آزادی مارچ پر پالیسی بیان دیا۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار حکومت نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔

اس موقع پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم سیاسی میدان کے کھلاڑی ہیں، حکومت نے جمہوری روایات کے مطابق احتجاج کی اجازت دی ہے، اسلام آباد میں دھرنے سے بیرون ملک منفی تاثر جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان معاہدے کی پاسداری کریں گے اور ان کا مارچ پر امن رہے گا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اسلام آباد میں موجود 7 ہزار افراد پر مشتمل سفارتی عملے کی سیکیورٹی کی ذمہ دار حکومت ہے۔ مولانا فضل الرحمان پاکستان کے ساتھ رشتے کو کمزور نہ کریں، وہ ایسا کوئی عمل نہ کریں جس سے پاکستان کا وقار مجروح ہو۔

متعلقہ خبریں