آزادی مارچ کی تیاریاں مکمل، دعوتوں کا سلسلہ جاری، جے یو آئی اور ن لیگ کا اجلاس طلب

آزادی مارچ کی

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی تیاریاں مکمل، سیاسی و غیر سیاسی رہنماؤں کو دعوتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نواز شریف کے خط پر جے یو آئی کا اجلاس طلب کرلیا گیا۔ ن لیگ کا اجلاس بھی آج ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان مسلم (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے ملنے والے خط اور پیغام پر رفقاء سے مشاورت کریں گے۔

آزادی مارچ کو مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، اے این پی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی مکمل تائید حاصل ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی پوزیشن مستحکم ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نواز شریف نے ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ کردیا ہے : مولانا فضل الرحمن

جے یو آئی کے سیاسی کے ساتھ غیر سیاسی سماجی شخصیات سے بھی رابطے جاری ہے۔ جمعیت علماء اسلام مشائخ کمیٹی کے سربراہ پیر خواجہ مدثر محمود نے درگاہ حضرت سچل سر مست پر حاضری دی اور سجادہ نشین درگاہ حضرت سچل سرمست خواجہ عبدالحق سائیں سے ملاقات کی۔

پیر خواجہ مدثر محمود تونسوی نے مولانا فضل الرحمن کا پیغام خواجہ عبدالحق سائیں تک پہنچایا اور آزادی مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔

خواجہ عبدالحق سائیں نے آزادی مارچ کی دعوت قبول کرلی اور بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا۔ سجادہ نشین خواجہ عبدالحق سائیں نے کہا کہ اپنے مریدین اور متعلقین کے ہمراہ سندھ سے آزادی مارچ میں بھرپور شریک ہوں گے۔

دوسری طرف حکومت کی جانب سے مذاکرات کا آپشن کھلا رکھنے کے اعلان کے باوجود کوئی رابطہ نہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی ان کے مؤقف کے مطابق تجاویز آنے پر بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔

جے یو آئی کی احتجاج مارچ کے سلسلے میں تیاریاں مکمل ہوچکیں ہیں۔ جے یو آئی کی رضاکار فورس انصار الاسلام نے دریائی راستے سے الٹی جانب مارچ کی ریہرسل بھی کرلی ہے۔ ملک بھر میں تقریباً 50 ہزار کے قریب رضا کاروں نے ریہرسل میں حصہ لیا۔

دوسری جانب جمیعت علماء اسلام سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کا اہم اجلاس آج پھر منعقد ہوگا۔ احسن اقبال مولانا فضل الرحمان سے ہونے والے مذاکرات سے متعلق قیادت کو بریفنگ دیں گے۔

حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آزادی مارچ روکنے کی حکمت عملی پر غور شروع کردیا ہے۔ وزارت داخلہ اور اسلام آباد انتظامیہ شہر کے امن کی خاطر اقدامات اٹھانے پر غور کررہی ہیں۔