بچوں کو اسمارٹ فون کی لت سے بچانے کے لیے چوزے تقسیم

چوزے

جکارتا: انڈونیشیا میں بچوں کو اسمارٹ فون کی لت سے بچانے کے لیے ان میں چوزے تقسیم کئے گئے۔

بوندگ شہر کے اسکولوں میں بچوں کو ٹیبلٹ اور فون سے دور رکھنے کے لئے 2000 چوزے تقسیم کئے گئے اور اس عمل کو انہوں نے مرغیانہ یا چکنائزیشن کا نام دیا ہے۔ ہر طالبعلم کو یہ ذمے داری سونپی گئی کہ وہ صبح و شام چوزوں کو دانا اور پانی دیں گے۔

کچھ بچوں کو پنجرے بھی دیئے گئے ہیں جس میں لکھا ہے کہ برائے مہربانی میرا اچھی طرح سے خیال رکھنا۔

یہ اسکول جکارتہ سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اور بچوں سے کہا گیا ہے کہ اگر اسکول میں جگہ نہ ہو تو وہ اسے اپنے گھر لے جاسکتے ہیں۔

ایک بچے کی ماں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ اس کا بچہ اسمارٹ فون دیکھنا چھوڑ دے اور مستقبل میں مرغبانی کا کام کرے۔ دوسری جانب بچوں نے بھی مرغبانی اور چوزے پالنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 70 سالہ شہری کی آنکھ سے 7 سینٹی میٹر لمبا کیڑا نکل لیا گیا

تاہم انڈونیشیا کے صدر جوکو وائڈوڈو نے بھی ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس میں شہریوں کو بھی پولٹری فارم کی ترغیب دی جاری ہے تاکہ وہ انڈے اور اور مرغی کے گوشت میں خود کفالت حاصل کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسکول کے بچے بھی خوشی خوشی چوزے لے کر گھر چارہے ہیں۔