جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

لبنان : بیروت دھماکے کی تحقیقات 13 ماہ بعد دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

13 ماہ

سیاسی دباؤ کی وجہ سے 13 ماہ کی معطلی کے بعد بیروت بندرگاہ کے مہلک دھماکے کی تحقیقات کرنے والے لبنانی جج نے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں سال 2020 کے ماہ اگست میں تاریخ کے سب سے بڑے غیر جوہری دھماکوں کے باعث  215 سے زائد افراد ہلاک اور شہر کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا۔

واقعے کی تحقیقات جج کے خلاف شکایات کے ایک سلسلے کے باعث دسمبر 2021 سے تعطل کا شکار تھی۔ اب عدالتی ذرائع نے بتایا ہے کہ جج طارق بطار نے اپنی تفتیش دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

2014 سے بندرگاہ کے ایک گودام میں غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے سیکڑوں ٹن امونیم نائٹریٹ کھاد میں آگ لگ گئی تھی، جس سے دھماکہ ہوا۔

ابھی تک کسی بھی ریاستی اہلکار کو اس دھماکے کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ جج نے زیر حراست 17 میں سے پانچ مشتبہ افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور آٹھ دیگر افراد کے خلاف الزامات عائد کیے تھے، جن سے پوچھ گچھ کی تاریخیں مقرر کی گئیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : لبنانی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے ہلاکتوں کی تعداد 77 ہوگئی

الزامات کی زد میں آنے والوں میں جنرل سیکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل عباس ابراہیم، اسٹیٹ سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ ٹونی سلیبا اور دیگر سیکیورٹی حکام، سیاستدان اور جج شامل ہیں۔ رہائی پانے والوں میں لبنان کے کسٹم کے سابق سربراہ شفیق میرہی بھی شامل تھے۔

مقامی معروف وکیل کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز فیصلے کے باوجود، بطار کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ وہ استثنیٰ کی پالیسی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ انہیں اپنی تحقیقات کو معطل کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ انہیں ان سیاستدانوں سے شدید دباؤ کا سامنا تھا، جنہیں انہوں نے غفلت کے الزام میں طلب کیا تھا۔

ان میں کئی سابق وزراء بھی شامل ہیں، جن میں سے دو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیئے گئے تھے۔ بیرونی ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے بھی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک عدالتی ذریعے نے بتایا کہ جج بطار نے گزشتہ ہفتے دو فرانسیسی ججوں سے تحقیقات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملاقات کی۔ اب 13 ماہ بعد تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں