بھاری بھرکم اشیاء کو نہایت آسانی سے متوازن کرنے والا نوجوان

نوجوان

غزہ: فلسطینی نوجوان محمد الشنبری جب بھی کوئی نئی شے دیکھتے ہیں تو وہ اس کے توازن کے مقام (بیلنسنگ پوائنٹ) کو تلاش کرتے ہیں کیونکہ وہ چیزوں کو ایک کے اوپر ایک رکھنے کے ماہر ہیں۔

وہ بھاری بھرکم اشیاء کو نہایت کامیابی سے ایک دوسرے کے اوپر اس طرح سے رکھتے ہیں کہ وہ مقناطیس سے چپکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اسی فن نے انہیں فلسطین کی ایک مشہور شخصیت بنادیا ہے۔ اپنے فن سے وہ لوگوں کی مایوسی دور کرنے اور انہیں امید دلانے کا کام بھی کرتے ہیں۔

بھوک، افلاس اور شورش کے شکار غزہ میں رہنے والے الشنبری کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی محنت سے یہ فن سیکھا ہے جس میں جسم و دماغ دونوں کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

کرسی کے ایک پائے پر وہ گیس کے دو سلنڈر متوازن کرسکتے ہیں جو ایک حیرت انگیز صلاحیت ہے یہاں تک کہ شیشے کی عام بوتل پر پورا ٹی وی رکھنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

الشنبری نے بتایا کہ “سب سے مشکل کام درست مقام کا درست سہارا (فلکرم) تلاش کرنا ہوتا ہے اور بس”۔

یہ بھی پڑھییں: 18 ہزار سال قبل مرنے والا جانور، اب بھی اپنی اصل حالت میں

انہوں ںے بتایا کہ “میں جب جب یہ کرتا ہوں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے مجھ سے مقناطیسی قوت نکل کر اس شے تک جارہی ہے اور اب میں آڑھی ترچھی بوتلوں کو ایک دوسرے پر آرام سے ٹکاسکتا ہوں” ۔

انہوں نے یوٹیوب پر ایک کوریا کے ایسے ہی ماہر کو دیکھا تھا اور اس کے بعد وہ پتھروں کو بیلنس کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے اجسام کو بھی متوازن کرسکتے ہیں۔ یہ غیرمعمولی صلاحیت دنیا کے چند افراد میں ہی پائی جاتی ہے۔

غزہ کے رہائشی محمد الشنبیری بھاری اشیا کو ایک دوسرے پر متوازن رکھنے کے ماہر ہیں (فوٹو: ایم ایس این)

محمد الشنبری غزہ سے باہر جانا چاہتے ہیں اور ایشیا کے کسی ریالٹی ٹی وی شو کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اب وہ فریج اور واشنگ مشین کو ایک دوسرے پر کھڑا کرنے کا تجربہ کریں گے۔