بڑھتے قرضوں سے پاکستان کی معیشت غیر محفوظ رہنے کا خدشہ ہے : ورلڈ بینک

پاکستان کی معیشت

اسلام آباد: سال 2021 میں پاکستان میں ترقی کی شرح 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان میں ترقی کی شرح میں بہتری پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے مشروط ہے۔ پاکستان کے بڑھتے قرضوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت غیر محفوظ رہنے کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک نے پاکستان کی معشیت سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سال 2019 میں پاکستان میں ترقی کی شرح 3.3 فیصد رہے گی۔ پاکستان میں ترقی کی شرح میں کمی کی وجہ سخت مانیٹری پالیسی ہے۔ سال 2021 میں پاکستان میں ترقی کی شرح 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کاروباری طبقے کی کامیابی ملک کی کامیابی ہے : وزیر اعظم

عالمی بینک‏ نے رپورٹ پر بتایا کہ ادارہ جاتی اصلاحات سے معیشت کی صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔ پاکستان میں ترقی کی شرح میں بہتری پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے مشروط ہے۔ پاکستان میں ترقی کی شرح میں بہتری بین الاقوامی مارکیٹوں میں استحکام سے بھی مشروط ہے۔

عالمی بینک کی پاکستان کی معاشی صورتحال پر جاری کردہ رپورٹ میں ادارہ نے بتایا کہ پاکستان میں ترقی کی شرح میں بہتری سیاسی اور سیکیورٹی خطرات میں کمی سے منسلک ہے۔ سال 2020 میں مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے پاکستان میں کرنسی کی شرح تبادلہ بھی بدلنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ سال 2020 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی ہی کا 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال 2021 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.2 فیصد تک رہے گا۔

رپورٹ کے مزید مطابق کرنسی کی شرح تبادلہ میں اضافے سے برآمدات میں اضافہ، درآمدات معقول ہونے کی توقع ہے۔ سال 2020 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کے 7.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال 2021 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

عالمی بینک‏ نے رپورٹ پر بتایا کہ مالی سال 2021 میں پاکستان کے قرضوں کی شرح جی ڈی پی کے 80.8 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے بڑھتے قرضوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت غیر محفوظ رہنے کا خدشہ ہے۔  میکرو اکنامک اصلاحات کی وجہ سے غربت میں کمی رکی رہے گی۔ غربت میں کمی رکنے کی دوسری وجہ شرح نمو میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہے۔