بلاول بھٹو، شاہد خاقان اور اختر مینگل کی حکومت پر تنقید

اسلام آباد : اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف یک زباں ہوگئیں، حکومت پر شدید تنقید، ججز کے خلاف ریفرنس، محسن داوڑ و علی وزیر کی گرفتاری اور پیپلزپارٹی کے کارکنان پر تشدد کی مذمت۔

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں پارلیمنٹ کے باہرمیڈیا سے بات کی، بلاول بھٹو نے کہا کہ آج جوپارلیمنٹ میں ہوا وہ جمہوریت نہیں آمرانہ طریقہ تھا، حکومت نے اپوزیشن کےکسی رہ نما کوبولنے نہیں دیا، اسلام آباد میں دو دن قبل پُرامن لوگوں پرحملہ کیا گیا، دو اراکین کو گرفتار کیا گیا، ہماری خاتون ایم این اے پرتشدد کیا گیا، یہ لوگ اپوزیشن خواتین کے ساتھ بھی یہ سلوک کررہے ہیں۔

بلاول نے کہا کہ ،بلاول علی وزیراورمحسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے حکومت کوکہا تھا، دونوں اراکین اسمبلی کوپیش کرنا چاہیے تھا، یہ لوگ سلیکٹڈ اپوزیشن چاہتے ہیں، قومی اسمبلی میں جھوٹ بولا گیا کہ خط نہیں ملا، دونوں اراکین کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا جائے۔

پیپلزپارٹی چیئرمین نے کہا کہ نئے پاکستان میں آمرانہ طریقے اختیار کیے جارہےہیں ،اسکی مذمت کرتے ہیں، سب اپوزیشن جماعتیں آپ کے سامنے کھڑی ہیں، یہ مشرف کی باقیات ہیں، مشرف کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب چیئرمین کے معاملے پرپارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بننی تھی، آج کے حکومتی رویے کی مذمت کرتے ہیں، ملک میں مسائل کا انبار ہے، سینیٹ میں قرارداد منظور کی گئی ہے، قومی اسمبلی میں پاس ہوناتھی لیکن راہ فرار اختیار کی گئی

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنے والی خواتین پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، کل حکومت نے پر امن لوگوں پر ظلم کیا ہے، عوام کے مسائل کے حل اورعوام کی تکالیف دورکرنے کیلیے اپوزیشن اکٹھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ججز کیخلاف ریفرنس بددیانتی پر فائل کیا گیا ہے، حکومت اپنی مرضی کے فیصلے لینا چاہتی ہے، حکومت اپنی مرضی کے ججز تعینات کرنا چاہتی ہے، یہ عدلیہ کیخلاف سازش ہے، ہم عدلیہ کیساتھ کھڑے ہیں، میران شاہ میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات مانگی تھیں، ایوان کو بتانا چاہئے تھا کہ مسئلہ کیا تھا، لیکن حکومتی بینچز اور منسٹرز کا رویہ اچھا نہیں تھا۔

بلوچ نینشل پارٹی کے رہنماء اخترمینگل بھی اپوزیشن کے ساتھ کھڑے نظر آئے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ لوگوں نے جمہوریت کے خاطر کوڑے کھائے ہیں، یہ کہنے کوجمہوریت ہے مگرآمریت کی بوآرہی ہے، ہم نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ہے، ایوان کو چلانا حکومت کی ذمے داری ہے، نیب کے آفس کے سامنے اراکین اسمبلی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کی مذمت کرتےہیں۔

اختر مینگل نے مزید کہا کہ ، خواتین پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں، ہم نے حق کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ اپوزیشن کیطرف سے ہو یا حکومت کیطرف سے ہو، حکوت اگر اپوزیشن سے بدتر کردار کرے گی تو حکومت کس کو کہیں گے، اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام نہیں کرنے دیا جائے گا تو جمہوریت کو خطرہ ہوگا۔