جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبر

بلاول بھٹو زرداری کا بجٹ کی منظوری اور انتخابی قوانین کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد : بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر معاشی ترقی اتنی ہوگئی تو عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے کشکول اٹھا کر بھیک کیوں مانگ رہا ہے، آئی ایم ایف ڈیل سے نکلیں، اگر زبردستی بجٹ منظور کراتے بھی ہو تو ہر عدالت اور ہر فورم پر جائیں گے۔

  • خبردار کسی نے ناجائز، نالائق حکومت کیلئے ریاست مدینہ کا لفظ استعمال کیا
  • اگر معاشی ترقی ہو رہی ہے تو بے روزگاری کیوں ہے؟
  • اگر معاشی ترقی اتنا ہوگئی تو عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے کشکول اٹھا کر بھیک کیوں مانگ رہا ہے۔
  • معیشت بہتر ہوگئی تو آئی ایم ایف ڈیل سے نکلیں
  • اگر زبردستی بجٹ منظور کراتے بھی ہو تو ہر عدالت اور ہر فورم پر جائیں گے
  • اگر الیکشن قانون زبردستی منظور کراتے ہوتو بھی ہر عدالت جائیں گے ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔
  • اس بجٹ میں گھوڑوں کی تعداد تو اتنی ہی ہے مگر گدھوں کی تعداد بڑھ گئی یہی حکومت کی کامیابی ہے۔
  • اگر اس بجٹ میں ریلیف ہوگا تو امیروں کے لیئے ہوگا، عام آدمی کے لیئے تکلیف ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بجٹ اور بجٹ سیشن دونوں غیر قانونی ہیں۔ آج تک نیا این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔ جب تک این ایف سی ایوارڈ نہیں دیں گے تب تک ہر بجٹ غیر آئینی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہر رکن اسمبلی کا حق ہے کہ وہ بجٹ سیشن کو اٹینڈ کریں۔ آپ پروڈکشن آرڈر ایشو نہیں کر رہے، خورشید شاہ، خواجہ آصف اور علی وزیر کو نہیں لایا جا رہا۔ ان کے علاقے کے عوام بجٹ میں حصہ نہیں لے رہے، ان کی نمائندگی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے اپوزیشن کرنی ہے۔ حکومت نے بھی اپوزیشن کرنی ہے تو حکومت کون چلائے گا۔ آپ کو نیا پاکستان مبارک ہو۔ خبردار آپ میں سے کسی نے اس ناجائز، نالائق حکومت کیلئے ریاست مدینہ کا لفظ استعمال کیا۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ چاہتے تھے کہ اپوزیشن کو موقع نہ ملے کہ ان کے پی ٹی آئی ایم۔ایف بجٹ کو عوام کے سامنے نہ لائیں۔ یہ سمجھتے تھے کہ معاشی ترقی کی جھوٹی کہانی گالم گلوچ سے سچ ثابت کریں۔ ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ عوام کو ہماری تقریروں کی ضرورت نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوام تو آپ کی مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہی ہے۔ نوکری پیشہ شہری جو دن رات محنت کرتا ہے مگر اپنے والدین کیلئے دوائی نہیں خرید سکتا اسے پتہ ہے 4 فیصد گروتھ جھوٹ ہے۔ یہ معاشی ترقی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزدور عمران کی مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے۔ جو ماں گھر میں کھانا پکاتی ہے عمران کی مہنگائی سے واقف ہے۔ پاکستان میں عمران کی مہنگائی افغانستان، بنگلہ دیش اور بھارت سے زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں بھی مہنگائی تھی ہر دوسرا دن دہشتگردی کے واقعہ ہو رہے تھے بہت مہنگائی تھی۔ مگر ہم نے آپ کی طرح عوام کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا۔ ہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لائے تھے۔ اگر مہنگائی ہے تو لوگوں کو مالی امداد پہنچنی چاہیے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں تاریخی اضافہ مگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں معمولی اضافہ ہوا۔ ہم نے 2009 میں 20 ،2010 میں 15 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا۔2011 میں 50 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ ہمارے دور میں مجموعی طور پر تنخواہوں میں 120 فیصد اضافہ ہوا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آپ نے صرف دس فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا اور عوام کو لاوارث چھوڑا۔ پیپلز پارٹی نے تو پینشن میں بھی سو فیصد اضافہ کیا۔

ہم نے تو سرحدوں کے تحفظ کرنیوالے سپاہیوں کی تنخواہوں میں 175 فیصد اضافہ کیا۔ کم سے کم تنخواہ سندھ حکومت نے اب بھی 25 ہزار رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے سرکاری ملازمین سے احتجاج کے بعد معاہدہ کیا تھا۔ آپ نے سرکاری ملازمین کو دھوکہ دیا۔ جس طرح سے آپ نے لوگوں کو لاوارث چھوڑا وہ کبھی آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ آپ کے بجٹ کی وجہ سے پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمت میں جب اضافہ ہوتا ہے تو ہر پاکستانی آپ کی نالائقی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اگر معاشی ترقی ہو رہی ہے تو بے روزگاری کیوں ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھی، الٹا جن کے پاس روزگار تھا، ان کو بھی بے روزگار کر دیا ہے۔ نہ صرف بے روزگاری بلکہ غربت میں تاریخی اضافہ ہوا۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ جو ہمارا مواصلات کا وزیر ہے اسے سی پیک کی وجہ سے چین کے ساتھ میٹنگز کرنی چاہییں۔ وزیر مواصلات اس دن اجلاس میں بندر کی طرح اچھل رہا تھا۔ اسپیکر نے بلاول بھٹو کے الفاظ خذف کرا دیئے۔  اگر آپ کہیں گے، آپ کے وزیر اعظم کی پسند کی تقریر ہو ایسے نہیں ہو سکتا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس دن آپ نے نہیں دیکھا ہمارے وزیر امور کشمیر کا کردار کیا تھا۔ وہ جو کشمیر کا سودار کر سکتا ہے،

کلبھوشن کو این آر او دینے کی کوشش کر رہا ہے، مگر شہباز شریف کو آپ نے کتاب سے مارنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس وقت مشکل معاشی حالات میں ہیں، وہ ہماری طرف امید کیساتھ دیکھ رہے ہیں۔ اسپیکر صاحب آپ کا ایک خاندان ہے، کیا آپ کے بچوں نے نہیں پوچھا کہ وہاں کیسے ایوان چلایا جا رہا ہے۔ دنیا سلیکٹرز کے بارے کیا سوچے گی کہ انہوں نے ناکام ترین حکومت دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ہم 18 ویں ترمیم اور این ایف سی کی بات کریں تو سندھ کارڈ کا طعنہ سننا پڑتا ہے۔ اگر این ایف سی ایوارڈ نہیں ہو گا تو ہر صوبے کا نقصان ہو گا۔ یہ آپ کا آئینی فرض ہے۔ آپ نہ صرف اپنے آئینی فرض پر پورا نہیں اتر رہے بلکہ ہر سال کا صوبوں سے وعدہ نہیں پورا کرتے۔

یہ بھی پڑھیں : جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے، ہاتھ پھیلانے والا کبھی فیصلہ نہیں کرسکتا : شہباز شریف

پی پی چیئرمین نے کہا کہ پختونخوا کا قصور کیا ہے کہ جب آپ اپوزیشن میں ہوتے تھے تو نیٹ ہائڈل پرافٹ کا مطالبہ کرتے تھے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کو صرف 23 ارب ملا، پختونخوا کا قصور کیا ہے؟ پختونخوا 60 فیصد مقامی آئل پروڈکشن کرتا ہے، ان کو ان کا حق دیا جائے۔

بلاول بھٹو زداری کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کو ٹیکس ریلیف کا ذوالفقار بھٹو نے ریلیف دیا تھا، آپ ان پر جی ایس ٹی ٹیکس لگانے جا رہے ہو۔ آزاد کشمیر کو بھی آپ نے نہیں چھوڑا۔ آزاد کشمیر رو رہا ہے کہ آپ ان پر ٹیکس لگانے جا رہے ہو۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ زراعت ہے۔ ہماری زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جس کے لیے آپ نے 12 ارب رکھا ہے۔ آپ نے کسان کو لاوارث چھوڑا ہے۔ آپ نے کسانوں کو فرٹیلائزر سبسڈی تک نہیں دی۔ آپ چاہتے ہو کہ پاکستان کا کسان بھارت کے کسان کا مقابلہ کرے۔ جو یوریا یہاں 800 کا بیگ ہے بھارت میں 500 کا ہے۔ آپ نے کسان پر بوجھ ڈالا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے افغانستان کے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ ہم اس بات کی اجازت نہیں دینگے کہ عمران خان اس افغان مسئلے کو ذاتی مفاد میں استعمال کرے۔ ان کیمرہ بریفنگ دیں یا اوپن، البتہ بریفنگ کا اہتمام کیا جائے۔ ہم افغانستان اور پاکستان کے عوام کے خون کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے بعد افغان ایشو سمیت قومی سلامتی امور پر بریفنگ لی جائیگی، جس پر بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

خطاب جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے کسان کی مشکلات میں کمی لانے کی بجائے اضافہ کردیا۔ آپ کسان کے لئے بجلی یونٹ پانچ روپے دینا تھا آپ نے بارہ روپے تک پہنچا دیا۔ اگر پنجاب کے کسان کو بھارت سے مقابلہ کرانا ہے تو اسے بھارتی پنجاب کے کسان جیسی سہولیات دینا ہوگی۔

اس سلسلے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ نے گندم کی قیمت دو ہزار رکھا تو پنجاب کو اٹھارہ سو روپے مل سکا۔ جب پی پی پی حکومت تھی تو ہم نے پاکستان کو گندم ایکسپورٹ ملک بنا دیا۔ ہم نے پچیس ارب ڈالر تک برآمدات پہنچائیں۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ یو این ڈی پی کے مطابق سندھ فی کس آمدن سب سے زیادہ ہے۔ میں نے تو سندھ میں معیشت کے نعرے نہیں لگائے۔ بلوچستان میں سب سے فی کس آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا۔ معیشت کی بہتری کے کاغذی نمبرز سے کوئی فائدہ نہیں۔ سی پیک کا فائدہ عام آدمی کو پہنچنے تک اچھا پیغام نہیں جائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آپ چار فیصد جی ڈی پی اضافے کی بات کررہے ہو۔ اگر معاشی ترقی اتنی ہوگئی تو عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے کشکول اٹھا کر بھیک کیوں مانگ رہا ہے۔  معیشت بہتر ہوگئی تو آئی ایم ایف ڈیل سے نکلیں۔ یہ بجٹ پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر عوام کی جیب پر ڈاکہ مارنے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم آپ کو عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ اگر زبردستی بجٹ منظور کراتے بھی ہو تو ہر عدالت اور ہر فورم پر جائیں گے۔ اگر الیکشن قانون زبردستی منظور کراتے ہو تو بھی ہر عدالت جائیں گے ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس بجٹ میں ریلیف ہوگا تو امیروں کے لیئے ہوگا، عام آدمی کے لیئے تکلیف ہے۔ ایک بات میں نے اس بجٹ میں نوٹ کی، جسے حکومت کو بھی اٹھانا چاہیے، کیونکہ اس میں خان صاحب کی کامیابی ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں گھوڑوں کی تعداد میں کمی ہوگئی، مگر گدھوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، وہ 5.6 ملین تک پہنچ چکے ہیں، گھوڑے تو اتنے ہی ہیں، مگر پی ٹی آئی کی حکومت میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا، آپ کو مبارک ہو۔

متعلقہ خبریں