جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

سپریم کورٹ فیصلے کے بعد بورس جانسن کی وزارت عظمیٰ اور نوڈیل بریگزٹ منصوبہ داؤ پر

بورس جانسن کی وزارت عظمیٰ داؤ پر

برطانوی پارلیمنٹ کا اجلاس آج بدھ کو ہورہا ہے۔ پانچ ہفتوں کے لئے پارلیمنٹ کو التوا میں ڈالنے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس لئے اب بورس جانسن کی وزارت اعظمیٰ داؤ پر ہے۔ سیاسی مخالفین انہیں ہٹانے کے مطالبے پر متحدہورہے ہیں۔

لیبر پارٹی اور اسکاٹش نیشنل پارٹی کا کہنا ہے مستعفی نہیں ہوئے تو بورس کو تحریک عدم اعتمادکا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • برطانوی پارلیمنٹ کے اسپیکر جون برکاؤ.. آج کے اجلاس میں وزیر اعظم کے سوالات ایجنڈا میں شامل نہیں
  • اس ضمن میں برائٹن میں لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے پارٹی کانفرنس سے اہم خطاب کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم جانسن ملک کو گمراہ کرنے کے مرتکب قرار پائے ہیں. اس لئے عہدہ چھوڑ دیں۔

جانسن کی اپنی کنزرویٹیو پارٹی میں بھی اکا دکا افراد اس مطالبے کے حامی ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ انکی جماعت کے سابق وزیر اعظم جان میجر نے بھی سپریم کورٹ میں انکے مخالفین کا ساتھ دیا تھا۔

مستعفی نہیں ہوئے تو بورس کو تحریک عدم اعتمادکا سامنا کرنا پڑے گا، لیبر پارٹی سربراہ.

دوسری جانب یورپی یونین سے بغیر معاہدے کے اخراج یعنی نو ڈیل بریگزٹ منصوبے کی قانونی حیثیت بھی ختم ہوچکی۔ جانسن کا وعدہ تھا معاہدہ ہو یا نہ ہو، 31اکتوبر 2019 کو برطانیہ یورپی یونین کا رکن نہیں رہے گا۔

پارلیمنٹ کو پانچ ہفتوں کے لئے التوا میں ڈالے جانے سے قبل ہی اراکین پارلیمنٹ نے قانون منظور کرلیا تھا۔ اس کے تحت بریگزٹ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

منظور شدہ قانونی آپشن تین ہیں کہ یا تو 19اکتوبر تک جانسن بریگزٹ ڈیل منظور کروائے. یا پھر اراکین پارلیمنٹ نو ڈیل منظور کریں. یا رسمی طور یورپی یونین کو خیرباد کہنے کی ڈیڈلائن میں توسیع کا کہا جائے۔

بورس جانسن دوسروں کی نسبت کم مشکل میں ہے، ٹرمپ۔

وزیر اعظم بورس جانسن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک میں ہیں۔

حسن اتفاق کہ جب برطانوی سپریم کورٹ نے جانسن کے فیصلے کو متفقہ طورغیر قانونی قرار دیا تب ڈونلڈ ٹرمپ بورس کی حمایت کررہے تھے۔ حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ کی سیاسی حیثیت بھی بورس جانسن جیسی ہی ہوچکی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی انکے مواخذے کی تیاری میں مصروف ہے۔

پھر بھی ٹرمپ نے انتہائی شوخ لب و لہجے میں صحافیو ں کو بتایا کہ بورس جانسن دوسروں کی نسبت کم مشکل میں ہے۔ 31اکتوبر بریگزٹ ڈید لائن کی تصدیق دونوں نے ہی کی۔ جانسن کا کہنا ہے کہ وہ مزید توسیع کا نہیں کہیں گے۔

ایسے وقت کہ جب برطانوی سیاسی بحران سنگین ہوچلا ہے، تو ٹرمپ جانسن سے دوطرفہ امریکی برطانوی تجارت میں چار گنا اضافہ کرنے کے لئے مذاکرات کررہے ہیں۔

وزیر اعظم جانسن کا موقف تھا کہ پانچ ہفتوں کے لئے پارلیمنٹ معطلی ضروری ہے. تاکہ ملکہ برطانیہ تقریر کرسکیں اور نئی قانونسازی کا تعین کیا جاسکے۔ یہ موقف عدالت نے مسترد کردیا۔

برطانوی پارلیمنٹ کے اسپیکر جون برکاؤ کے مطابق آج کے اجلاس میں وزیر اعظم کے سوالات ایجنڈا میں شامل نہیں۔ البتہ فوری سوالات، وزراء کے بیانات ہنگامی مباحثے کی درخواست کی گنجائش ہے۔ جبکہ حزب اختلاف کی جماعتو ں کے اراکین کاارادہ وزیر اعظم جانسن کے خلاف کارروائی کے مطالبہ پیش کرنے کا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن دونوں ہی کوسیاسی مخالفین کی جانب سے احتسابی کارروائی کا سامنا ہے۔ ٹرمپ مواخذہ کی زد پر تو جانسن عدم اعتماد و استعفیٰ کے درمیان معلق۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں انکے خلاف کس حد تک جائیں گی۔

عرفان ٹھٹھوی
جی ٹی وی انٹرنیشنل اینڈ ریسرچ

متعلقہ خبریں