بجٹ 20-2019 کا حجم 6800 ارب روپے متوقع

اسلام آباد: بجٹ 2019-20  کا حجم 6800 ارب روپے متوقع ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف پانچ ہزار پانچ سو پچاس ارب روپے رکھا جائیگا۔

جبکہ دفاع کیلئے 1250 ارب سے زائد رکھے جائیں گے، ترقیاتی منصوبوں کیلئے 925 ارب روپے رکھے جائیں گے، مالی خسارے کا ہدف 3000 ارب روپے رکھا جائیگا۔

قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2500 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز کی گئ ہے، آئندہ مالی سال میں1400 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کئے جائیں گے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پینشن میں دس فیصد اضافہ بھی متوقع ہے۔ وفاقی کابینہ منگل کو بجٹ اہداف کی منظوری دے گی۔ حکومت کی جانب سے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد اضافے کی تجویز کی گئی ہے۔

درآمدی سیکٹر پر ریگولیٹری ڈیوٹی  کی شرح میں مزید اضافے  اور برآمدی صعنت کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی ہوئی ہے۔  

احساس پروگرام کے تحت رواں سال فنڈز جاری کئے جائیں گے۔ ٹیکس اہداف حاصل کرنے کیلئے آڑھتیوں پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز ہوئی ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق 8000 ارب روپے سے کم بجٹ رکھنے سے معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ انکا ماننا ہے کہ اس نئے بجٹ کے تحت بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا اور ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مالی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔