جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

کابینہ کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ بھارت کیساتھ تجارت نہیں ہوسکتی: وزیر خارجہ

کابینہ کا دو ٹوک فیصلہ

ملتان: شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کابینہ کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت نہیں ہوسکتی، پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ملتان میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے دوشنبے گیا ہوا تھا،

جب میں پاکستان پہنچا تو میرے بیٹے نے ایک نوٹیفکیشن واٹس ایپ کیا، جب میں نے نوٹیفکیشن دیکھا تو مجھے تعجب ہوا کہ وہ نوٹیفکیشن تحریک انصاف کے منشور کی نفی کررہا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے وزراء نے اس نوٹیفکیشن کا فوری نوٹس لیا، جنوبی پنجاب کے تمام صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان کا شکریہ ادا کرتا ہوں،

وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں جب یہ بات آئی تو جنوبی پنجاب نے نوٹیفکیشن کو درست کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کا مسئلہ حل ہوئے بغیر بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی: وزیراعظم

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خواہش کی کشمیر پر مسئلہ گفت و شنید سے حل ہونا چاہیے، آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، بھارت نے 5 اگست کو قدم اٹھایا جس سے معاملات الجھ گئے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں، مسئلہ کشمیر پرسلامتی کونسل کی کئی قراردادیں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست کے بھارتی اقدامات سے کشیدگی میں اضافہ ہوا، کابینہ کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت نہیں ہوسکتی،

کشمیر سے متعلق پاکستانی کے تاریخی موقف میں وزن ہے۔ عمران خان ڈائیلاگ سے کبھی نہیں کترائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ فیصلہ مریم نواز نے کرنا ہے باہر جانا ہے یا پھر پاکستان میں رہنا ہے،

نوازشریف کے معاملے پر عدالت کے سامنے ایک بانڈ رکھا گیا۔ بظاہر اب دکھائی دے رہا ہے کہ نواز شریف کو بیماری سے خطرہ نہیں، نوازشریف کو پاکستان واپس آنا چاہیئے۔

 

متعلقہ خبریں