گتے کے ڈبوں اور غباروں سے تیار کیا ہوا پل

روس: کہتے ہیں خیال سے ہی راہیں نکلتی ہیں ایک خیال ہی کسی بھی نئی ایجاد کو مؤجب بنتا ہے۔ ایسا ہی کچھ روسی باشندوں نے کیا، دنیا لوہے اور کنکریٹ سے مضبوط بل بناتی ہے مگر انھوں نے گتے کے ڈبوں اور غباروں سے ہی پل بنالیا۔

کم وقت ہو، پیسا بھی کم ہو اور کام بھی چل جائے تو روسی شہریوں نے کچھ ایسا ہی کرڈالا، تجربے کے لیے ہی صحیح مگر گتے کے ڈبوں کو جوڑ جاڑ کر دریا کے پل کی شکل دے ڈالی۔

اب کھڑا کیسے کریں تو اس کا حل بھی سستا سا نکالا، تین بڑے غباروں سے پل کو ہوا میں بلند کرکے چھوٹی سی ندی پرلگا دیا۔ پل دیکھنے کے لیے آنے والوں نے نئےخیال کو خوب سراہا۔