جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سی سی پی او کو لاہور میں بلدیاتی انتخابات جیتنے کے لئے لایا گیا : رانا ثناء اللہ

سی سی پی او کو لاہور

لاہور : رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سی سی پی او کو لاہور میں بلدیاتی انتخابات جیتنے کے لئے لایا گیا، اے پی سی میں ہونے والے فیصلے مشترکہ ہوں گے۔

انسداد منشیات کی عدالت میں سابق وزیر قانون اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کیخلاف 15 کلو ہیروئین برآمدگی کیس کی ساعت ہوئی۔ ڈیوٹی جج خالد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔ رانا ثناءاللہ عدالت میں حاضری کے لیے پیش ہوئے۔ رانا ثناءاللہ پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی، جج کی رخصت کے باعث سماعت بغیر کسی کارروائی کے 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

رانا ثناء اللہ نے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا آئی جی پنجاب سے جو مسئلہ بنا تھا وہ ان کا اپنا بیانیہ نہیں تھا۔ انہوں نے آئی جی کیخلاف بات کر کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔ حکومت نے سی سی پی او کی انکوائری کرنے کہ بجائے آئی جی کو تبدیل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کو لاہور سے بلدیاتی انتخابات جیتنے کے لئے لایا گیا ہے۔ اسی لئے ان کے تمام بیانات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سی سی پی او ہے رویے سے کیا لاہور کے لوگ مطمئن یا محفوظ ہو سکتے ہیں۔ سی سی پی او کا بیان قابل مذمت ہے۔

موٹر وے زیادتی کیس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیس شروع ہونے سے پہلے ملزموں کو شک کا فائدہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس کے اپنے ریکارڈ کے مطابق خاتون نے بروقت اطلاع دے دی تھی۔ ایف آئی آر میں وقوعے کا 4 بجے کا بتایا جا رہا ہے حالانکہ ڈولفن اہلکار 3 بجے سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔

سابق وزیر قانون نے کہا کہ حکومت کا امن و امان یا عوام سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ چینی، آٹا مافیا عوام کو لوٹ رہا ہے لیکن حکومت صرف نیب کے ذریعے اپوزیشن کو سیایس انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔

یہ عدالتیں ایک سال 2 ماہ بعد بھی ہمیں وہ نقول فراہم نہیں کر رہیں جن کی بنا پر مجھ پر فرد جرم عائد کرنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نیب اپنی ناک پر بیٹھی مکھی بھی نہیں اُڑا سکتا، روالپنڈی کا دوست، شیطان کا بھی دوست ہے : رانا ثناء اللہ

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ فیصل آباد سے منشیات بیچنے والوں اور میری جائیدادوں کی انکوائریاں کرتے رہے لیکن انہیں کچھ نہیں ملا۔ ان عدالتوں سے ہمیں کیا انصاف ملے گا جب یہاں کے ججوں کو واٹس ایپ پر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے کیس سننے والے ججوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے کہ ان کے خاندان والوں کی خفیہ نگرانی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ماحول قائم کیا جا رہا ہے کہ انصاف کرنے کا ماحول ہی ممکن نہیں۔ یہ صورتحال ملک کو خانہ جنگی کی جانب لے جا رہے ہیں۔ آج عدالتوں کو انصاف کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ نیب چیئرمین سمیت تمام افسران آج یرغمال ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں ہونے والے فیصلے مشترکہ ہوں گے۔ مسلم لیگ ن اپنے فیصلے کسی پر نہیں تھونپے گی۔ مسلم لیگ ن اے پی سی کے فیصلے کی مکمل پابندی کرے گی۔

سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بننے سے پہلے یہ کہتے تھے کہ حکمران ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اب ان کے معاون خصوصی کا معاملہ سامنے آیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ کسی انکوائری کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب فرانزک بہترین لیبارٹری ہے جو پنجاب سمیت ملک بھر کی ضروریات پورا کر سکتی ہے لیکن اسے تباہ کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ساتھ شہباز شریف کا نام آتا ہے۔ موٹر ویز کو مکمل اس لئے نہیں کیا جا رہا کیونکہ اس سے لوگ نواز شریف کو دعائیں دیتے ہیں۔ پولیس میں شہباز شریف کے دور کی اصلاحات کو ختم کر کے مکمل طور پر سیاسی کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں