چائے پینے والے کا دماغ، نہ پینے والے سے بہتر کام کرتا ہے : تحقیق

چائے

اگر آپ کو چائے پینا پسند ہے تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ عادت دماغی افعال کو صحت مند بنانے میں مدد دیتی ہے۔

یہ دعویٰ سنگاپور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چائے پینے کا معمول اس مشروب سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں دماغی حصوں کو زیادہ بہتر طریقے سے منظم رکھنے اور دماغی افعال صحت مند بنانے میں مدد دیتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 36 افراد کے دماغی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور محققین کے مطابق نتائج سے چائے پینے کی عادت کے دماغی ساخت پر مثبت اثرات کے اولین شواہد ملتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے سنگاپور کی یونیورسٹی نے برطانیہ کی Essex اور کیمبرج یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چائے پینا عادت بنالینے سے عمر بڑھنے سے دماغی سرگرمیوں آنے والی تنزلی کی روک تھام ممکن ہے۔

اس سے قبل ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں چائے کے انسانی صحت پر فوائد کا ذکر کیا جا چکا ہے، جیسے مزاج میں بہتری اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کی روک تھام وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں : مشہور ہونے کے 3 سال بعد ارشد چائے والا کس حال میں ہے؟

2017 کی ایک تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا تھا کہ چائے پینے کی عادت معمر افراد میں دماغی تنزلی کا امکان 50 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

اسی تحقیق کو اب سنگاپور اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں نے مزید آگے بڑھاتے ہوئے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 36 افراد کی خدمات حاصل کرکے ان کی صحت، طرز زندگی، نفسیاتی صحت وغیرہ کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔

ان افراد کی دماغی کارکردگی اور امیجنگ کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ہفتے میں کم از کم 4 بار سبز چائے، اولونگ چائے یا سیاہ چائے کا استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغی حصے زیادہ موثر طریقے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق اگر آپ سڑک کی ٹریفک کی مثال لیں تو یہ خیال کریں کہ دماغی حصے منازل کی طرح ہیں، جبکہ دماغی حصوں کے درمیان تعلق سڑکوں کی طرح، جب سڑک کا نظام بہتر طریقے سے منظم کیا جائے تو گاڑیوں اور مسافروں کی حرکت بھی زیادہ تیز اور کم ذرائع سے ممکن ہوتی ہے، اسی طرح دماغی حصوں کا باہمی تعلق زیادہ منظم ہونے پر معلومات کا تجزیہ بھی زیادہ موثر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پرانی تحقیق میں ثابت ہوا تھا کہ چائے پینے والے افراد کے دماغی افعال اس مشروب سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں بہتر ہوتے ہیں، اب حالیہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغی نیٹ ورک پر چائے پینا معمول بنانے سے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دماغی کارکردگی اور دماغی حصوں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں تو ان افعال کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایجنگ میں شائع ہوئے۔