جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

چارج شیٹ قطعی قبول نہیں، ڈکٹیشن سے کوئی اتحاد نہیں چل سکتا : شیری رحمان

چارج شیٹ قطعی

اسلام آباد : شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ہمیں چارج شیٹ قطعی قبول نہیں، کہ پیپلز پارٹی کسی کو جوابدہ نہیں ہے، ڈکٹیشن سے کوئی اتحاد نہیں چل سکتا۔

پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی کو جوابدہ نہیں ہے، پی ڈی ایم کا کوئی آئین نہیں۔ ہماری سی ای سی سوچے گی کہ شوکاز نوٹس کا کیا جواب دینا ہے۔ ہم اس طرح جوابدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ اچھے ماحول میں بات کی جائے، پیپلز پارٹی کی اکیس رکنی اکثریت کی بنیاد پر ہی قائد حزب اختلاف سینٹ بنایا گیا۔ مسلم لیگ ن کو بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اکثریت پر ملی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ ن کو کوئی ایشو تھا تو بات کرنی چاہیئے۔ کون پی ڈی ایم میں دراڑیں چھوڑ رہا ہے؟ بلاول پی ڈی ایم کے بانی ہیں، سلیکٹڈ سرکار کو ہٹانا بہت ضروری ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ سو ہزار بائیس میں قرضے جی ڈی پی کا چورانے فیصد ہوجائیں گے۔ آئی ایم ایف سے پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے، اس طرح کی شکایات کبھی نہیں رہیں۔ انہوں نے ملک کے تمام ادارے تباہ کردیئے ہیں۔ ہمارا ہدف سلیکٹڈ سرکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مسلم لیگ ن کا حکومتی کارروائیوں کا حصہ بننے والے سرکاری افسران کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

پیپلز پارٹی کی رہنماء کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں ایک دوسرے پر فائرنگ درست نہیں اور ہمیں چارج شیٹ قطعی قبول نہیں، ہم نے پبلک میں نہیں پوچھا کہ پنجاب میں کیسے سب بلامقابلہ سینیٹر ہوگئے۔ دلاور صاحب مسلم لیگ ن سے آئے ہوئے ہیں، انہوں نے چار کا گروپ بنایا، ان کو ہم کیوں نہ لیں؟

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے بھی گیلانی صاحب کو جتانے کے لئے کام کیا۔ ہم نے ضمنی انتخابات میں ان کو ہرایا، یہ عدم اعتماد لائیں، عمران حکومت جھونکے کی طرح گرنے والی ہے۔ پیپلز پارٹی پرانی جماعت ہے، اے پی ڈی ایم اس لئے ٹوٹا تھا کہ ہم انتخابات کا بائیکاٹ نہیں چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن جس نہج پر اتحاد کو لے آئی ہے،

وہ سوچیں کہ ہم کس کو ہدف بنانا چاہتے ہیں۔ ہم تو لانگ مارچ کے لئے تیار تھے اور استعفوں پر بات کرنے کو بھی تیار تھے۔

شیری رحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں سے رابطوں میں ہیں۔ سلیکٹڈ کے لئے راستے کھلے نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ہمیں سوچنا ہے کہ ہم کس طرح سے آگے بڑھیں۔ عمران خان کو اپنے آپ سے خطرہ ہے، وہ کلہاڑیاں اپنے پاؤں پر ماررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈٹ کر اپوزیشن کی تحریک چلائیں گے۔ سیاست روزمرہ کے امور پر ہوتی ہے، عوام کے مقاصد آگے رکھنا ہوتے ہیں۔ ڈکٹیشن سے کوئی اتحاد نہیں چل سکتا۔

متعلقہ خبریں