چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر مزید مشاورت کا فیصلہ

چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد: وفاقی حکومت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر حکمت عملی نئے سرے سے طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر مزید مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ ریفرنس فوری دائر کرنا ہے یا حکمت عملی تبدیل کرنی ہے، حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد ہوگا۔

چیف ای سی پی کی مدت ملازمت کم رہ جانے کے پیش نظرحکومت حکمت عملی تبدیل کرسکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی کو مشاورت کے لئے بلالیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چیف الیکشن کمشنر کے پاس حلف لینے سے انکار کا اختیار نہیں : فردوس عاشق

وزیراعظم اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور سردار رضا خان کے خلاف ریفرنس کے معاملہ کا جائزہ لیں گے۔ ملاقات میں الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری اور الیکشن کمیشن سے متعلق کئی امور زیر بحث آئیں گے۔ وزیراعظم سے دیگر قانونی ماہرین بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس سے متعلق مشاورت کریں گے۔

یاد رہے کہ صدر مملکت کی طرف سے چند روز قبل الیکشن کمیشن میں دو ارکان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں سندھ اور بلوچستان کے لیے دو ارکان کی تعیناتی کی گئی تھی۔ صوبہ سندھ کے لیے خالد محمود صدیقی جبکہ بلوچستان کے لیے منیر کاکڑ کو تعینات کیا گیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے ان ارکان سے یہ کہہ کر حلف لینے سے معذوری ظاہر کی تھی کہ ان ارکان کی تعیناتی قانون کے مطابق نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ دو ارکان کا حلف نہ لیے جانے پر حکومت نالاں ہے اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے بارے میں کہا تھا تاہم ابھی تک حکومت کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں ایسی کوئی درخواست جمع نہیں کروائی گئی ہے۔