جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ایک پارٹی کے انفرادی فیصلے سے جدوجہد کو اجتماعی نقصان پہنچا : مریم اورنگزیب

ایک پارٹی کے انفرادی

لاہور : ترجمان مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ ندیم بابر کو عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہیے، ایک پارٹی کے انفرادی فیصلے سے جدوجہد کو اجتماعی نقصان پہنچا ہے۔

ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کنٹینر پر چڑھ کر جھوٹ بولے گئے، عوام کے ساتھ دھوکا کیا گیا۔ 2014 سے اب تک حکمران جھوٹ بول رہے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں نہ دینے کیلئے روز جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی یتیم ہے جو عمران خان کا فرنٹ مین ہے۔ شہزاد اکبر کاغذ ہلا ہلا کر شہباز شریف پر الزام لگاتے تھے۔ ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت نہ کرسکے۔ شہزاد اکبر سینیٹ کا ٹکٹ نہ ملنے پر سیاسی یتیم ہیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ چور چور کا شور مچائیں اور خود عوام کو لوٹیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چور ٹولہ دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہا ہے۔ نااہل ٹولہ اس وقت ملک پر مسلط ہے، وہ عوام کو لوٹ رہا ہے۔ یہ کہتے تھے جب مہنگائی ہوتی ہے تو اس کا مطلب وزیراعظم چور ہے۔ عمران خان کے دور میں52  روپے سے چینی 120 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔ جب تک یہ مافیا مسلط رہے گا مہنگائی ختم نہیں ہوگی۔

ترجمان مسلم لیگ ن نے کہا کہ شہباز شریف نے گنے کی قیمت 180 روپے رکھی، تاکہ کسانوں کو پریشانی نہ ہو۔ آج چینی کی قیمت 120 روپے کلو ہے، ذمے دار چینی مافیاز ہیں۔ کہتے ہیں حمزہ شہباز کی وجہ سے چینی کی قیمت بڑھی۔ العریبیہ اور رمضان شوگر ملز نے ایک روپے کی سبسڈی نہیں لی۔ حمزہ شہباز نے 2 سال ناحق جیل کاٹی۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس وقت 14 ہزار ارب کا قرضہ لے لیا۔ ایل این جی میں 122 ارب کا ڈاکہ ڈالنے پر ندیم بابر کو عہدے سے ہٹادیا گیا۔ ندیم بابر کو عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی قرض کمیشن بنایا۔ قرض کمیشن کی رپورٹ آج تک نہیں آئی۔ آٹا، چینی کمیشن انکوائری میں کہا گیا جہانگیر ترین اور خسرو بختیار جیل جائیں گے۔ ایف آئی اے نے بھی کہا کہ عمران خان، عثمان بزدار، جہانگیر ترین، خسرو بختیار چینی چور ہیں۔ حکمران چینی انکوائری کمیشن رپورٹ پر عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں۔

صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم 10 جماعتوں کا اتحاد ہے۔ اس اتحاد میں کسی کو کان پکڑ کر نہیں شامل کیا گیا۔ یہ اتحاد حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کے رول کے خلاف بنایا گیا تھا۔ اصولی مؤقف پر پی ڈی ایم کا اتحاد ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ سب کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ اخری میٹنگ میں پیپلز پارٹی کی رائے الگ تھی۔ انہوں نے ٹائم مانگا، جس پر انہیں یہ حق دیا گیا، جس کے باعث لانگ مارچ ملتوی ہوا۔ ہر کسی کو رائے کا حق ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی آفیشل پریس ریلیز جاری کی گئی، جو مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پی ڈی ایم ایک سوچ کا اتحاد نہیں، اسے ٹوٹنا ہی تھا : پرویز خٹک

مریم اورنگزیب کا کہنا کہ مسلم لیگ ن کا مؤقف ہے کہ جس حکومت میں اختیار نہ ہو، وہ نہیں چاہیے۔ جو اقتدار عوام کا دیا ہوا نہیں ہو وہ قابل قبول نہیں، اسی مؤقف پر ہم پی ڈی ایم میں گئے تھے۔

بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل ہوا وہ افسوس ناک ہے۔ جو جمہوری جدوجہد اور پی ڈی ایم کی نفی ہے۔ نواز شریف کے لیئے وزیر اعظم کی کرسی اہمیت نہیں رکھتی، جس میں اختیار نہیں۔ آپ باپ سے ووٹ لر کر کس کو بیقوف بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک پارٹی کے انفرادی فیصلے سے جدوجہد کو اجتماعی نقصان پہنچا ہے۔ اس سے عوام کے مؤقف کو نقصان پہنچا۔ ملک کی ایک ایک اینٹ بیچی جارہی ہے،

ملک کی سلامتی کو بیچا جارہا رہا، اس کا نہیں سوچا تو فتح نقصان پہنچانے والوں کو ہوگی۔ پیپلز پارٹی کے کل کے فیصلے سے ہر اس حلقے کو مایوسی ہوئی، جس نے امید لگائی تھی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ن لیگ کا اصولی مؤقف ہے۔ اس نااہل حکومت کو بھیجنے کے لیئے جدوجہد جاری رہے گی۔ جو کل ہوا، اسے پی ڈی ایم میں لے کر جارہے ہیں۔ پی ڈی ایم کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کا سوچ رہے ہیں، جس کا اعلان مولانا فضل الرحمان کریں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص طبقے نے مریم نواز اور حمزہ شہباز میں لڑائی کی خبروں کا پروپیگنڈا کیا، مگر آٹے چینی پر بات نہیں کی۔ ان کے درمیان بہن بھائی کا رشتہ ہے اور خاندانی روایات ہیں، جنہیں مجروع کیا جاتا ہے۔

میں نے بیان بھی دیا کہ یہ کام نہیں کیا جائے، مگر پھر بھی ایسی خبریں چلائی گئیں۔ ہمیں اس چیز کی نفی کرنی ہوگی اور یہ سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے اصولی مؤقف پر ان کا ساتھ دیا۔ جب آپ کے اعتماد اور اتحاد میں دراڑ ہوتی ہے، تو اس کا نقصان ہوتا ہے۔ انفرادی عمل کا خمیازہ اجتماعی طور پر بگتنا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہے کہ باپ پارٹی کس کے کہنے کے ووٹ دیتی ہے۔ کل جو ہوا وہ ایک فطری عمل کی نفی تھی۔ کل تک الیکشن میں ڈاکہ ڈالنے کے خلاف جس کے خلاف عدالت میں گئے، آپ اس کے ووٹ سے اپوزیشن لیڈر بن گئے، مسلم لیگ ن کا اصولی مؤقف ہے کہ یہ معاملہ پی ڈی ایم میں رکھیں گے،

جس پر مولانا فضل الرحمان اپنا فیصلہ اور مؤقف دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا فیصلہ مسلم لیگ ن نے نہیں پی ڈی ایم نے کیا۔ گیلانی کو سینیٹر ن لیگ نے بنایا، پھر چیئرمین سینیٹ کا ووٹ بھی گیلانی کو دیا کیوں کہ پی ڈی ایم کا فیصلہ تھا۔ جس کی کل نفی ہوئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ادارے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو جس طرح سیاست دانوں پر تنقید ہوتی ہے ان پر بھی ہوگی۔ مہنگائی پر صرف ن لیگ نے احتجاج کیا، اور نواز شریف نے لانگ مارچ کا نام بھی مہنگائی مارچ تجویز کیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک مہینہ ہوگیا شہباز شریف کو ان کی میڈیکل رپورٹ نہیں دی جارہی ہے۔ عدالت میں درخواست داخل کی گئی کہ رپورٹ دی جائے۔ عدالت نے بھی کہا کہ شہباز شریف کا حق ہے کہ وہ اپنی میڈیکل رپورٹ دیکھیں۔

متعلقہ خبریں