جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبر

اسلام آباد سمیت پاکستان کے تمام صوبوں میں کورونا ویکسین مہم کا آغاز

بچاؤ کی

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے مُلک بھر میں بیک وقت کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے عمل (نیشنل ایمونائزیشن ڈرائیو) کا آغاز کر دیا۔

اسلام آباد میں این سی او سی میں ویکسین لگانے کی تقریب میں وفاقی وزیر اسد عمر، لیفٹیننٹ جنرل جمود الزماں اور چینی کمرشل منسٹر کونسلر زی گوشیانگ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر فواد چوہدری، معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی بھی موجود تھیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے ہیلتھ کئیر ورکرز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرنٹ لائن ورکرز قوم کے حقیقی ہیرو ہیں۔ بے شک انہوں نے کورونا کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کو داؤ پر لگایا۔ انہوں نے بحران کے دوران مسلسل معاونت پر چینی حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

اسد عمر نے این سی او سی ٹیم اور صوبائی اتھارٹیز کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیک وقت ہونے والی افتتاحی تقریب صوبوں اور وفاق کی باہمی کورآرڈینشن کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا ویکسین کی تقریب میں وزرا اعلیٰ کی شرکت اتحاد کی علامت ہے۔ ملک پر مشکل وقت آیا ،ہم نے مل کر مقابلہ کیا۔ پاکستان نے چین کے تعاون سے مشکل وقت سے نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کی مددکی اور دونوں ممالک کی دوستی مثالی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ خوشی کی بات ہے تمام صوبوں کو مساوی بنیاد پر ویکسین کی فراہمی ممکن بنائی گئی۔ کورونا سے نمٹنے کے لیے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگانا ہماری ترجیح ہے۔

ابتدائی طور پر مختلف اسپتالوں کے کورونا ڈیپارٹمنس سے نمائندگان کو ویکسین لگائی گئی۔ پمز اسپتال آئسولیشن وارڈ کی انچارج نرس رضوانہ یاسمین، ڈی ایچ او اسلام آباد آفس کے سرویلنس آفیسر جاوید اقبال، شفاء اسپتال پتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کے فہد محمود نے ویکسین لگوائی۔

پنجاب:

لگانے کی مہم

پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پنجاب کی کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے صوبے میں کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا افتتاح کیا۔

راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی کے ڈاکٹر فراز اور لیڈی ڈاکٹر سماویہ اکبر کو کورونا ویکسین لگا کر پنجاب میں ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز کیا گیا۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پہلے مرحلے میں صوبے کے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگانے کی مہم کا آج باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کے ساتھ بزرگ شہریوں کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کو مفت ویکسین لگائے گی۔ کورونا ویکسین لگانے کے لئے پنجاب میں 189 مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ مراکز میں کورونا ویکسین لگوانے والوں کا مکمل ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا۔ 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 36 اضلاع میں اب تک 600 سے زائد افراد کو تیکنیکی تربیت فراہم کی گئی۔ ماسٹر ٹرینرز کو مزید عملے کی تربیت کیلئے تیار کیا گیا۔ پنجاب کو 70 ہزار کورونا ویکسین کی ڈوزز ملیں۔ مزید ویکسین بھی اگلے تین ہفتے میں ملے گی۔

ویکسین کو محفوظ رکھنے کیلئے پنجاب کے 36 اضلاع میں 2500 آئس لائن ریفریجریٹرز کا انتظام کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے ضرورت پڑنے پر کورونا ویکسین کی خریداری کیلئے ایک ارب سے زائد روپے کی رقم مختص کی ہے۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز خوش آئند ہے۔ پنجاب حکومت نے کورونا ویکسین لگانے کے لئے تمام انتظامات مکمل کئے ہیں۔ ہیلتھ کیئر ورکرز نے انتہائی محنت اور جانفشانی کے ساتھ کورونا وباء کے دوران خدمات سرانجام دی ہیں۔ ہیلتھ کیئر ورکرز ہمارے ہیرو ہیں۔

سندھ:

کورونا ویکسینیشن

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے فرنٹ لائن ورکرز کو سینوفارم ویکسین لگانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چین نے 5 لاکھ ڈوز دیئے ہیں۔ ہم چین کے حکومت کے شکرگزار ہیں۔ سندھ حکومت کو 38 ہزار ڈوز ملے ہیں۔ یہ ڈوز ہم فرنٹ لائن ورکرز کو ہی لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں 3 لاکھ 20 ہزار ہیلتھ ورکرز ہیں، ان میں ایک لاکھ 80 ہزار فرنٹ لائن ورکرز ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہم ویکسین مہم 3 شہروں کراچی، حیدرآباد اور شہید بینظیرآباد میں شروع کر رہے ہیں۔ ان شہروں میں کوویڈ 19 کیسز کی تعداد زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کے عمل میں پاکستان کا نمبر 80 ہے۔ ہم سے پہلے 79 ملک نے ویکیسن کا عمل شروع کردیا ہے۔ چین کے علاوہ کوئی بھی ملک پاکستان کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا، پوری دنیا میں ویکیسن کے معاملے میں حکومتیں بہت زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں، بدقسمتی سے پاکستانی حکومت اس عمل میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکی۔

خیبر پختونخوا:

8 اضلاع

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختونخوا کو ابتدائی طور پر سولہ ہزار ویکسین موصول ہوئی ہیں۔ یہ ویکسین صوبے کے 8 اضلاع میں ہیلتھ ورکرز کو لگائے جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ویکسین کی فراہمی کے لئے وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے مشکور ہیں۔ پاکستان کو کورونا ویکسین کی فراہمی پر ہم دوست ملک چین کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 3 ہزار 194 ہیلتھ ورکرز کورونا سے متاثر ہوئے، جبکہ 32 شہید ہوئے ہیں۔ ہیلتھ ورکرز بشمول ڈاکٹرز، نرسز ,پیرامیڈکس اور دیگر عملے کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ صوبائی حکومت ان کی بے لوث خدمات اور قربانیوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فرنٹ لائن ورکرز اس قوم کے اصل ہیرو ہیں، جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے خدمات انجام دیں۔ کامیاب حکمت عملی سے ہم کورونا کی پہلی لہر سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں کامیاب ہوئے۔

صوبے کے 8 اضلاع کے 16 اسپتالوں میں کورونا ویکسین لگائی جارہی ہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے طبی عملہ کو ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔

پہلے مرحلے میں صوبے کے 16 اسپتالوں میں روازنہ 50 افراد کو ویکسین دی جائے گی۔ ترجمان ایل آر ایچ کے مطابق کورونا ویکسین لگانے کے لیے نادرا سے تصدیق کروائی جائے گی، نادار کا تصیدیق شدہ میسج موصول ہونے والوں کو ویکسین دی جائے گی۔

بلوچستان:

1 ڈاکٹر اور 2 نرسز

صوبائی دارالحکومت میں کورونا ویکسین کا افتتاح کردیا گیا۔ کوئٹہ کے وزیرا علیٰ سیکرٹریٹ میں کورونا ویکسین لگانے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، پہلے مرحلے میں طبی عملے کو کورونا ویکسین لگائی گئی۔

اس موقع پر وزیراعلی بلوچستان جام کمال اور صوبائی وزراء شریک ہوئے۔ تقریب میں رضاکارانہ طور پر فاطمہ جناح اسپتال کے ایم ڈاکٹر نوراللہ، ڈاکٹر آفتاب اور ایک ایک میل فی میل نرنسر نے ویکسین لگوائی۔

اس موقع پر ڈاکٹر آفتاب کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین سے متعلق لوگوں کے منفی تاثرات کو زائل کرنے کے لئے انہوں نے قدم اٹھایا۔

وزیراعلی بلوچستان نے ویکسین لگوانے پر طبی عملے کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کا دوسرا کوئی علاج نہیں، اسی لئے ہمیں یہ ویکسین لگوا کر ہی اس وباء سے نجادت حاصل کرنی ہے۔

وفاق کی جانب سے بلوچستان کو 10 ہزار کورونا ویکسین فراہم کی جانی ہے۔ پہلے مرحلے میں 5 ہزار ویکسین فراہم کردی گئی ہے، جو کوئٹہ کے علاوہ ہائی ریسک علاقوں چاغی، کیچ، لسبیلہ اور تفتان میں طبی عملے کو لگائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں