جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کورونا وائرس کی منتقلی نوٹوں کے ذریعے بھی ممکن، عوام کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہے

نوٹوں

کراچی : زیر گردش کرنسی نوٹ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہیں۔ ماہرین کے مطابق نوٹوں کو دھوپ میں رکھا جائے تو چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں اس پر موجود وائرس مر جائے گا۔

اگر کورونا وائرس مادی چیزوں کی نقل و حرکت سے پھیل رہا ہے تو پھر دنیا بھر کی طرح پاکستانی کرنسی نوٹ بھی موت کا سبب بن سکتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیجئے کے جو نوٹ زندگی اور خوشی کی علامت سمجھے جاتے تھے اب موت کا فرشتہ بھی بن سکتے ہیں۔

نوٹ عالمی وباء پھیلانے کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں اسی خطرے کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے صارفین کو صاف کرنسی نوٹ دینے کی ہدایت کی ہے،

مگر سوال یہ ہے کہ مارکیٹ میں گردش کرنے والے اربوں مالیت کے کرنسی نوٹ کیسے کنٹرول ہونگے۔

اس سلسلے میں طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ کرنسی نوٹوں کے ذریعے کورونا پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں،

اگر نوٹ سورج کی روشنی میں ہے تو اس کاغذ پر وائرس ایک سے دو دن رہ سکتا ہے اور اگر یہ نوٹ جیب، تجوری یا سائے دار کسی اور جگہ پر ہے تو وائرس لمبے عرصے موجود رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں : کورونا وائرس سے 156 ممالک متاثر، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد انیس ہزار ہوگئی

دوسری طرف بینکنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق نوٹوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا،

اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے نوٹوں کو مناسب انداز میں پیکٹوں میں باندھ کر ان پر اسپرے کر کے انہیں سیل کرنے کے بعد کچھ عرصے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا، جو اسپتالوں یا میڈیکل اسٹور کا عملہ بینکوں میں جمع کروائے گا۔

پاکستانی قوم کو اس مسئلے سے جان چھڑانے کے لیئے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کی طرف جانا پڑے گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر سلیم رضا کہتے ہیں ہمیں ڈیجیٹل بینکنک ٹرانزیکشن کی جانب مزید تیزی سے بڑھنا ہوگا لیکن حقیقت تو یہ ہے

کہ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی گاؤں دیہات میں ہے اور جو لوگ شہر میں ہیں وہ بھی اپنے تمام امور اتنی جلدی ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پر منتقل نہیں کرسکتے۔

متعلقہ خبریں