جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کورونا وائرس سے 100 دنوں میں 1900 ہلاکتیں، ہمارے پیارے جاں بحق ہورہے ہیں : اسد عمر

100 دنوں

اسلام آباد : اسد عمر نے کہا کہ وائرس سے ہمارے پیارے جاں بحق ہورہے ہیں، 100 دنوں میں 1900 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ 100 دنوں میں 1900 پاکستانی کورونا سے جاں بحق ہوئے۔ وائرس سے ہمارے پیارے جاں بحق ہورہے ہیں۔ ہر انسانی جان قیمتی ہے اور ہمیں اس کی قدر کرنی ہے۔ قومی پالیسیاں سب کچھ مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد ضروری ہے۔ پاکستان میں یہ بیماری اتنی مہلک نہیں، جتنا یورپ اور دیگر ممالک میں رہی۔ کوئی بھی ایسا اقدام جس سے ایک بھی جان خطرے میں پڑے ناقابل معافی ہے۔ کورونا کی رفتار میں اتنی کمی کرنی ہے کہ صحت کا نظام مفلوج نہ ہو۔ وباء کا پھیلاؤ روکنا ابھی بھی اولین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ حفاظتی تدابیر نہیں اپنا رہے۔ مہینوں اور سالوں کے لیے قوموں کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طاقتور ہتھیار حفاظتی تدابیر ہیں۔ ہماری حکمت عملی تھی کہ جہاں زیادہ کیسز ہوں وہاں لاک ڈاؤن کیا جائے۔ ہماری یہ حکمت عملی پہلے دن سے ہے اور چلتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں : کورونا وائرس : پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران پہلی بار 97 ہلاکتیں

اسد عمر نے کہا کہ آج 100 سے زائد لیبارٹری ٹیسٹ کررہی ہے۔ ملک میں اس وقت وینٹی لیٹرز کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ ضرورت کے مطابق وینٹی لیٹرز کی تعداد میں اضافہ کریں گے۔ وینٹی لیٹرز کی دستیابی سے متعلق نیا نظام شروع کررہے ہیں۔ آئی سی یو بیڈز، وینٹی لیٹرز کی دستیابی سے متعلق ایپ بنائی ہے۔ ڈاکٹرز، ریسکیو ادارے ایپ کے ذریعے معلومات حاصل کرسکیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر نظام کی بہتری اور صلاحیت بڑھانی ہے۔ پاکستان میں 15 کروڑ لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت تکالیف سے گزرے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ زندگی کا پہیہ چلتے رہے اور لوگ روزگار کماتے رہیں۔ احساس کیش پروگرام ایک کروڑ سے زائد خاندانوں تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹا کاروبار اسکیم سے 35 لاکھ تاجروں کو ریلیف دیا گیا۔ دنیا میں عالمی اداروں نے بھی پاکستان میں ریلیف کوششوں کوسراہا۔ پاکستانی قوم نے کئی ہفتوں تک بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا۔ عید سے پہلے شاپنگ اور پھر عید پر ڈسپلن نہیں دیکھا گیا۔ ہم سب کی مجموعی ذمے داری ہے اور ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں