جی ٹی وی نیٹ ورک
معیشت

کورونا وائرس سے ہوا بازی کی عالمی صنعت کو بڑے پیمانے پر نقصان

ہوا بازی

لندن : کورونا وائرس سے بچنے کے لیئے سرحدیں بند ہونے کے باعث ہوا بازی کی عالمی صنعت کو بڑے پیمانے پر نقصان ہورہا ہے۔ فضائی سفر کے رجحان میں کمی نے کمپنیوں کے ملازمین کی نوکریوں پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

بین الاقوامی ہوا بازی صنعت بھی کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہونے لگی ہے۔ ایئر لائن انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق اخراجات پر قابو پانے اور سستے ٹکٹ کی فراہمی کے لیے ہانگ کانگ ایئر لائنز نے پرواز کے دوران کھانے کی فراہمی بند کر دی اور اپنے 170 ملازمین کو فارغ بھی کر دیا ہے۔

ہانگ کانگ ہی کی معروف فضائی کمپنی کیتھی پیسیفک نے اپنے آدھے فلیٹ یعنی 120 طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سنگاپور ایئر لائنز نے تنخواہوں میں کٹوتی کا فارمولہ اپنایا ہے۔

امارات ایئر لائنز نے اسٹاف سے چھٹیوں پر جانے کا کہا ہے۔ امریکا کی یونائیٹڈ ایئر لائنز نے بھی اپنے پائلٹوں کو ایک ماہ کی چھٹیوں پر جانے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کورونا وائرس : ہزاروں پروازیں منسوخ ہونے سے ایئر لائنز کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان

سوئس، برسلز اور آسٹریلین فضائی کمپنیوں پر مشتمل لفتھانسا گروپ نے اپنے ڈیڑھ سو طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ قطر ایئر لائنز نے ملازمین کی چھانٹی کا فیصلہ کیا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار سکڑ رہا ہے، جس سے ایشیاء کی ایئر لائنز کے نقصان کا تخمینہ تقریبا 30 ارب ڈالر ہے۔ فضائی انڈسٹری میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر مذہبی سیاحت کا شعبہ ہوا ہے۔

مسلمان سارا سال عمرے کے لیے سعودی عرب میں حرمین شریفین کا رخ کرتے ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد ایران اور عراق کے مذہبی مقامات کی زیارات کے لیے جاتی ہے۔

اسی طرح عیسائیوں کے لیے مقدس ترین مقام اٹلی میں واقع ویٹی کن سٹی بھی کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا شکار ہے، متعدد یورپی ممالک اور امریکا میں کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے یہودی بھی اپنے مقدس مقام دیوارِ گریہ کا رخ نہیں کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں