جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

مشترکہ مفادات کونسل کا فوری نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

اسد

اسلام آباد: مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی اور فوری نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نومبر 2017 میں مردم شماری ہوئی تھی، مردم شماری کے نتائج کو عبوری طور پر تسلیم کیا گیا تھا، اس پر صوبوں نے اعتراضات اٹھائے تھے۔ مردم شماری الیکشن کی بنیاد بنتی ہے، مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں، مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری پر بات ہوئی۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے لیے 10 سال کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، حالیہ مردم شماری کی آڈٹ کا کوئی طریقہ موجود نہیں، حالیہ مردم شماری منظور یا مسترد کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مردم شماری کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے : مصطفیٰ کمال

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اکتوبر تک نئی مردم شماری شروع ہوگی، 2023 میں مارچ، اپریل تک مردم شماری مکمل ہوگی، مردم شماری کے لیے 10 سال کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ حالیہ مردم شماری کی آڈٹ کا کوئی طریقہ موجود نہیں، حالیہ مردم شماری منظور یا مسترد کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگلے 8 ہفتے میں نئی مردم شماری کا فریم ورک تیار ہوجائے گا، نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندی بھی کرائی جاسکے گی، بلوچستان، پنجاب، کے پی نے حق میں اور سندھ نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نئی مردم شماری کی مخالفت کی ہے، اکثریت رائے سے فیصلہ کیا گیا مردم شماری نتائج منظور کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں