رمضان شوگر ملز کیس : شہباز شریف پیش، عدالت کا حمزہ شہباز کو ہر صورت پیش کرنے کا حکم

لاہور : رمضان شوگر ملز کیس میں عدالت نے حمزہ شہباز کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت یکم اگست تک ملتوی کردی۔

سماعت کے موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز کہاں ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ حمزہ شہباز رمضان شوگر ملز کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔ تفتیشی کو عدالت حکم نہیں ملا کہ حمزہ کو پیش کیا جائے۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ پچھلی سماعت پر عدالت نے حمزہ شہباز کو پیش کرنے کا واضح حکم دیا تھا، حمزہ کو پیش نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر حمزہ شریف کو ہر صورت پیش کیا جائے۔

شہباز شریف نے عدالت میں بیان دیا کہ نوید اکرام نے خاندان کی جن خواتین کے نام پر جائیدادیں وہ بھی گرفتار ہوئیں، مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ خواتین گرفتار ہوئیں۔ جب نوید اکرام ایرا میں تھا اس وقت نیب کہاں تھا۔ میں نے ملک کی خاطر کارروائی کی۔ جس پر عدالت نے شہباز شریف سے کہا کہ آپ اپنے کیس پر بات کریں۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر میں نے خیانت کی ہوتی تو کیس عدالت میں آتا۔ حمزہ شہباز اس وقت نیب کی حراست میں ہیں، نیب کی ذمہ داری تھی کہ حمزہ کو پیش کرتے۔ مجھے آشیانہ اور رمضان شوگر ملز میں گرفتار کیا گیا۔ مجھے ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کیا۔ میں قانون کا احترام کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کمر درد کی وجہ سے پیش نہہں ہو پاتا ہوں۔ میرے خلاف ڈیلی میل میں سٹوری چھپوائی گئی۔ میرے نزدیک زلزلہ زدگان کے پیسے کھانا مردے کا گوشت کھانا جیسا ہے۔ یہ صرف میری بدنامی نہیں، پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگر میرے خلاف کوئی ثبوت ہوتا تو عدالت آتے، انہیں ڈیلی میل میں رپورٹ چھپوانے کی کیا ضرورت تھی۔ نوید اکرام نے کرپشن کی تو ہماری حکومت میں اسے اور بیٹے کو گرفتار کیا گیا۔