جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سی پیک کو تباہ نہیں کرنے دیں گے : شبلی فراز

سی پیک کو تباہ

اسلام آباد : شبلی فراز نے کہا ہے کہ ملکی مفادات کے قوانین میں اپوزیشن رکاوٹ بن رہی ہے، سی پیک اتھارٹی کو تباہ نہیں کرنے دیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی طور پر بہت مایوس ہوں۔ بھارتی میڈیا پاکستان مخالف پروپیگنڈا کررہا ہے۔ بدقسمتی سے اپوزیشن جماعتیں بھارتی بیانیے کا حصہ ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر شبلی فراز کو بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بعد میں دیکھ لیں گے۔

شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان دشمن ممالک ہمارے خلاف بیانیہ چلا رہے ہیں۔ حکومت کا ترجمان ہوں مجھے بات کی اجازت دی جائے۔ پاکستان کا مفاد سب سے زیادہ مقدم ہے۔ وطن عزیز سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں۔

قائد ایوان سینیٹ وسیم شہزاد نے کہا کہ وزیر صاحب کو بات کرنے کی اجازت دی جائے، سینیٹر شبلی فراز پالیسی بیان دینا چاہتے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں نے منع نہیں کیا، پہلے ایجنڈا ختم ہونے دیں، آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ کہہ رہا ہوں کہ بات کرنے کی اجازت دوں گا۔

یہ بھی پڑھیں : سی پیک اتھارٹی بل ایک مخصوص شخص کو این آر او دینے کی کوشش ہے : رضا ربانی

سینیٹر وسیم شہزاد نے کہا کہ پاکستان توڑنے کی بات کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاسکتا، پاکستانی عوام ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر شبلی فراز کو فورم دیا، جس پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کردیا۔

شبلی فراز نے دوبارہ موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ  ڈپٹی چیئرمین صاحب آپ نے مجھے بات کی اجازت نہ دیکر رولز کی خلاف ورزی کی۔ سی پیک اتھارٹی کے منصوبے بہترین چل رہے ہیں۔ یہ اتھارٹی سی پیک منصوبوں کو مزید بہتر بنائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں سچ سننے کی ہمت نہیں۔ جمہوریت کے دعویدار قائمہ کمیٹیوں میں حمایت اور ایوان میں مخالفت کرتے ہیں۔ اپوزیشن پاک چین دوستی خراب کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ملکی مفاد میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ سی پیک کے تحت منصوبے بھرپور انداز میں جاری ہیں۔

شبلی فراز نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کا بل منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ سی پیک اتھارٹی بل کو قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی منظور کرائیں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن نے سب ادارے تباہ کر دیئے۔ اب سی پیک اتھارٹی کو تباہ نہیں کرنے دیں گے۔ سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس ختم ہوگیا ہے۔ آج بل قو می اسمبلی میں پیش ہوگا، دیکھتے ہیں کہ اپوزیشن ملکی مفاد میں ساتھ دے گی یا نہیں؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں باہر جا کر پریس کانفرنس کر سکتا ہوں۔ لیکن ملکی مفادات پر ایوان میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ سی پیک کے بڑے دشمن ہیں ان کے اپنے ایجنڈے ہیں۔ ہمیں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے منفی پیغام جائے۔ ہم سی پیک کے آگے بڑھائیں گے۔

متعلقہ خبریں