کراچی: جرائم میں اضافہ، سی پی ایل سی کے اعداد و شمار جاری

سی پی ایل سی

کراچی : سی پی ایل سی کے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دس ماہ میں 1431 گاڑیاں، 24906 موٹر سائیکلیں، 17123 موبائل فون چھینے یا چوری کیئے گئے ہیں۔

سٹی پولیس لیاژان کمیٹی (سی پی ایل سی) نے رواں سال کے دس ماہ کے دوران ہونے والے جرائم کے اعداد و شمار جاری کردیئے ہیں۔ یکم جنوری 2019 تا 31 اکتوبر تک کراچی میں ایک ہزار چار سو اکتیس گاڑیاں چھینی اور چوری کی گئیں۔

دس ماہ میں شہر کے مختلف علاقوں سے چوبیس ہزار نو سو چھ موٹرسائیکلیں چھینی اور چوری کی گئیں۔ عوام کو سترہ ہزار ایک سو تیئیس موبائل فون سے محروم کردیا گیا۔ شہریوں کے چوبیس ہزار چھپن موبائل فون چوری ہوگئے۔

کراچی میں بھتہ خوری کی 29 وارداتیں رکارڈ کی گئیں۔ ٹارگٹ کلنگ اور مزاحمت پر فائرنگ سے 322 افراد کو موت کی نیند سلادیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی : اسٹریٹ کرائم میں اضافہ، سی پی ایل سی کی رپورٹ جاری، موٹر سائیکل لفٹر گرفتار

رواں سال یکم جنوری سے اب تک بینک ڈکیتی کی 3 وارداتیں رکارڈ کی گئیں ہیں۔

دوسری طرف کراچی میں جرائم کا خاتمہ خواب بن کر رہ گیا ہے۔ پولیس قانون میں تبدیلی اور اے آئی جی کی تبدیلی سے بھی کراچی میں امن نہ آسکا ہے۔

نئے ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے بہترین افسران کی تقریری بھی کارآمد نہ ہوئی۔ آبادی میں بڑھتا اضافہ اور پولیس کے محکمہ کی ناقص کارکردگی بھی مسائل کی وجہ بن گئی۔

پولیس امن کے قیام کے لیے شہریوں کو حراسان اور تنگ کرنے لگے۔ فیملیز کو گاڑیوں کی تلاشی کے بہانے تنگ کیا جانے کی شکایات بھی عام ہوگئی ہے۔

بازاروں میں خواتین لٹنے اور کھلے عام تشدد کا شکار ہونے لگیں ہیں۔ مساجد میں نمازیوں کو بھی لوٹا جارہا ہے۔ اسٹریٹ کرائم کا جن پولیس کے بس سے باہر ہوگیا ہے۔

آئے دن کراچی میں شہری لٹنے لگے مگر صوبائی حکومت اور پولیس سوائے اجلاس اور نوٹس لینے سے زیادہ کچھ نہ کرسکے ہیں۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی وارداتیں شہریوں کے لیئے وبال جان بن گئیں۔