جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، زر مبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر ہوگئے، 74 سال خواب دکھائے گئے

خواب دکھائے

اسلام آباد : شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں سے معیشت مستحکم ہونا شروع ہوگئی، ترسیلات زر کی بدولت کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس چل رہا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر بھی 16 ارب ڈالر تک ہوگئے، 74 سال خواب دکھائے گئے، اب ہم نے صرف غریب کا خیال کرنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے پری بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ حکومت نے کورونا وباء کے دوران تعمیراتی شعبے کو مراعات دیں۔ کورونا کی تیسری لہر خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے 2 کروڑ لوگ بے روزگار ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کنسٹرکشن پر آئی ایم ایف سے مراعات لیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے گروتھ کو نچلی سطح پر دکھایا تھا۔ حکومت کی پالیسیوں سے معیشت مستحکم ہونا شروع ہوگئی۔ چاول اور گنے کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ حکومتی اقدامات سے زراعت کی 2.77 فیصد گروتھ ہوئی۔ ترسیلات زر 26 بلین ڈالر سے تجاوز کرگئی۔ امید ہے ترسیلات زر 29 بلین ڈالر ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صنعتی گروتھ بڑھنے سے امپورٹ میں اضافہ ہوا۔ ہماری ایکسپورٹ سے زیادہ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔ ترسیلات زر بڑھنا اوورسیز پاکستانیوں کا وزیراعظم پر اعتماد ہے۔ ترسیلات زر کی بدولت کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس چل رہا ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بھی ایک بلین ڈالر سے زائد آچکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر بھی 16 ارب ڈالر تک ہوگئے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن بہتر چل رہی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کلیکشن میں 4 ماہ سے گروتھ 50 فیصد سے زائد ہے۔ ہم نے ایف بی آر ٹیکس کلیکشن کا ہدف 5.8 ٹریلین رکھا ہے۔ عالمی سطح پر گندم، چینی، دالیں مہنگی ہونے سے یہاں اثرات آئیں گے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر کروڈ آئل کی قیمت میں 119 فیصد اضافہ ہوا ہےْ چینی کی قیمت 58 فیصد بڑھی، ہم نے صرف 19 فیصد بڑھائی،

سویابین قیمت میں 119 اضافہ ہوا، ہم نے 22 فیصد اضافہ کیا۔ چائے کی پتی کی قیمت میں ساڑھے 8 فیصد اضافہ ہوا، ہم نے نہیں بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ اجناس کی قیمتیں کم کرنے کیلئے زرعی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔ قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئے انتظامی انفرااسٹرکچر ٹھیک کرنا پڑے گا۔ مارچ 2021 تک ہمارا 38 ہزار ارب قرضہ ہے۔ سرکلر ڈیٹ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی کم اضافہ ہوا۔ بیرونی قرضے پچھلے سال کے مقابلے 700 ارب روپے کم ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت 242 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے : شیری رحمان

ان کا کہنا تھا کہ 74 سال خواب دکھائے گئے، اب ہم نے صرف غریب کا خیال کرنا ہے۔ 10 سے 20 سال مستحکم ترقی ہو تو غریب کو فائدہ ہوگا۔ قرضے لے کر مصنوعی گروتھ دکھاتے 5 سال بعد وہیں کھڑے ہوتے ہیں۔  مہنگائی روکنے کیلئے پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹین بلین ٹریز پروگرام میں سے ایک ارب درخت لگ چکے ہیں۔ کامیاب جوان پروگرام سے 9 ہزار افراد مستفید ہوچکے۔ چین 85 ملین روزگار کے مواقع آؤٹ سورس کررہا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آئے گی تو ہم ڈالر کمائیں گے۔ ہمیں اپنی سوسائٹی کو سوشل سیفٹی نیٹ ورک فراہم کرنا ہوگا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ چین کی ملازمتوں کی بیرون ملک منتقلی میں اپنے شیئرز لیں۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کیلئے ماہرین کا بورڈ بنائیں گے۔ 1991 سے نواز شریف بھی کہتے رہے کہ نجکاری کرنی ہے۔ جی ڈی پی میں بینکنگ سیکٹر کا حصہ 16 فیصد سے مزید بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی ہاؤسنگ بینک بنائیں گے۔ پاور سیکٹر ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے۔ سوائے دو، تین بینکوں کے کوئی نجکاری نہیں کی گئی۔ اکنامک زونز بنانے کیلئے چین کو مراعات دینے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فنانشل ٹائمز نے امریکا سے متعلق مجھ سے منسوب غلط خبر دی۔ میں نے ایف ٹی کو انٹرویو میں امریکا سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ ایف ٹی کی رپورٹ کی باضابطہ تردید کی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے شرائط پر دوبارہ مذاکرات کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے انکم ٹیکس کی شرح بڑھادی جائے۔ بجلی، گیس کے نرخ برھائیں جائیں۔ آئی ایم ایف سے کہا ہے ٹیکس، ٹیرف نہیں بڑھاسکتے۔ ہم تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ آئی ایم ایف شرط ٹیکس بڑھانے کے بجائے دوسرے طریقے سے پوری کریں گے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ادارہ شماریات کو آزاد اور خود مختار بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ چھوٹی صنعتوں کیلئے محض 6 فیصد قرض دیا جاتا ہے۔ آئی ٹی کے شعبے کو مزید مراعات دیں گے جو 40 فیصد شرح سے ترقی کررہا ہےْ ہمارا ہدف آئندہ سال آئی ٹی کے شعبے میں 100 فیصد ترقی لانا ہے۔

متعلقہ خبریں