جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

پیرو میں ریاستی تشدد کے باوجود مہلک مظاہرے جاری، صدر کی بات چیت کی دعوت

ریاستی تشدد

ڈینا بولوارٹ کے اپنے پیشرو پیڈرو کاسٹیلو کی افراتفری کے خاتمے پر پیرو کی صدارت سنبھالنے کے تقریباً سات ہفتے بعد بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ ریاستی تشدد بھی کام نہ آیا ہے۔

پیرو کے سابق صدر پیڈرو کاسٹیلو کی گرفتاری کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہروں کے سلسلے نے حکومت کو لوہے کے چننے چبوا دیئے ہیں۔ سابق صدر کو بغاوت کے الزام میں تفتیش کے دوران مقدمے سے پہلے حراست میں رکھا گیا تھا۔

مظاہرین بولوارٹ کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ نئے انتخابات اور ملک کے 1993 کے آمریت کے دور کے آئین کی از سر نو تشکیل پر زور دے رہے ہیں۔ ملک کے جنوب میں ہلچل مچانے والے مظاہرے دارالحکومت لیما تک پھیل گئے، جہاں انہیں شدید ریاستی تشدد اور جبر کا سامنا کرنا پڑا۔

مسلح افواج کے ہاتھوں درجنوں شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ صدر ڈینا بولوارٹے کے دور میں مظاہروں کو دبانے کے لیے استعمال کیے جانے والے پرتشدد ہتھکنڈے مزید بدامنی کو جنم دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پیرو : کاسٹیلو کی برطرفی کے بعد بولوارٹے پہلی خاتون صدر بن گئیں

پیرو کے صدر ڈینا بولوارٹے نے ایک پریس کانفرنس میں ملک کے لیے بات چیت اور ایجنڈا طے کرنے کے لیے قومی جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ میرا ملک ایک پرتشدد صورتحال سے گزر رہا ہے، جو ایک سیاسی ایجنڈے کے ساتھ بنیاد پرستوں کے ایک گروپ نے پیدا کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ بات چیت کا لمحہ گزر چکا ہے۔ میرے بھائیوں سے بہتے ہوئے خون کے بعد مستعفیٰ ہو جانا چاہیے۔ پیرو جاگ رہا ہے۔ اگر کھیتوں میں ہماری محنت نہ ہوتی تو بھوک سے مر جاتے۔

متعلقہ خبریں